- فتوی نمبر: 26-209
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا کہتے ہیں علماء دین بیچ اس مسئلہ کے: آج سے تقریبا بیس دن پہلے میری بیٹی زینب کا تقریبا 36 سال کی عمر میں اچانک ٹریفک حادثے میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحومہ کے اپنے شوہر زید سے پچھلے کئی سالوں سے اختلافات چل رہے تھے جس کی وجہ، زید کا غیرعورتوں سے ناجائز تعلقات، گھر کے اخراجات میں تنگی دینا تھا۔ مالی پریشانیوں کی وجہ سے میری بیٹی نے وہیں اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ ملازمت اختیار کرلی تھی، زید کی اپنے دفتر کی ایک عیسائی لڑکی سے کورٹ میرج کرنے کے بعد، میری بیٹی گذشتہ 3 سالوں سے اپنی دونوں بیٹیوں (ساڑھے دس سالہ فاطمہ ، اور ساڑھے آٹھ سالہ خدیجہ ) کے ہمراہ، سسرالی گھر سے کچھ فاصلے پر خاوند سے الگ، کرائے کے ایک مکان میں رہتی تھی۔ اس دوران اس کے خاوند نے اسے گھریلو اخراجات یا بچیوں کی سکول فیس کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیا اس دوران زید نے نہ تو زینب کو طلاق دی، نہ ہی زینب نے خلع کا دعوی کیا اس کے فوت ہوجانے پر اس کے کرائے کے گھر میں جو بھی سازو سامان ہے وہ یا تو اس کے جہیز کا ہے یا اس نے اپنی ذاتی تنخواہ سے بنایا تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی بیٹی کے کرائے والے گھر کی ہر چیز بیچ کر رقم ان بچیوں کے نام پر منجمد کروا دوں تاکہ مستقبل میں یہ رقم ان کی اعلی تعلیم اور شادیوں پر خرچ ہو سکے اور آج ہی زید کی اخراجات کی غلط ترجیحات کی نظر نہ ہو جائے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات و تعلیمات کے مطابق یہ فرمائیے کہ (۱) کیا میں ایسا کر سکتا ہوں؟ اور اگر (۲) اس کا ترکہ تقسیم ہوگا تو اس کا طریقہ بھی بتا دیں؟
وضاحت مطلوب ہے کہ: (۱) کیا مرحومہ کی والدہ زندہ ہیں؟ (۲)ان دو بچیوں کے علاوہ مرحومہ کی کوئی اور اولاد ہے؟
جواب وضاحت: (۱) مرحومہ کی والدہ زندہ ہیں۔ (۲) مرحومہ کی صرف دو بچیاں ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(۱) آپ کی بیٹی کی وراثت میں سے جو حصہ مرحومہ کی بیٹیوں کا بنتا ہے اسے یا جو حصہ آپ کا بنتا ہے اسے آپ منجمد کرواسکتے ہیں، البتہ آپ اپنی بیٹی کے شوہر کا حصہ اور اپنی اہلیہ کا حصہ ان کی رضامندی کے بغیر منجمد نہیں کرواسکتے۔
(۲) مذکورہ صورت میں مرحومہ کے کل مال کے 15 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 4حصے شوہر کو ملیں گے اور 4+4 حصے ہر ہر بیٹی کو ملیں گے، اور 2حصے مرحومہ کے والد کو ملیں گے اور 2حصے مرحومہ کی والدہ کو ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved