• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کےمکان میں تعمیر کاحکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے  بارے میں کہ  ہمارے  والد محترم  کا  ایک  پلاٹ تقریباً             ساڑھے نو     مرلےکا تھا جس  پر ہم دو  بڑے بھائیوں نے اپنی  ذاتی  گرہ     سے تعمیر کی تھی اور حضرت مفتی عبدالواحد صاحبؒ سے اس  کا  فتوی بھی  لیا  تھا جس کی  کاپی  لف  ہے۔ والد محترم کی زندگی میں تمام جگہ  کا  کرایہ  والد صاحب وصول کرتے رہے ان کی وفات (2021)کے بعد ہم دونوں بڑے بھائی  اس  مکان کےگراونڈفلور کا کرایہ تمام وارثین (4بھائی، 1بہن)میں وراثت کے اصول کے مطابق تقسیم کرتے رہے ہیں اور بعد میں مزید تعمیر بھی کی جسکی وجہ سے مارکیٹ کی شکل بن گئی ہے جس میں اب 9کرایہ دار ہیں اور اوپر کے حصہ میں جو دوکانیں ہیں ان کا کرایہ ہم خود استعمال کررہے ہیں اورایک دوکان ہمارے اپنے استعمال میں ہے اب 2021ءمیں ہم تمام لوگ اس جگہ کو فروخت کرنا چاہتے ہیں سوال یہ ہے کہ

1)کیا ہم دونوں بڑے بھائی اس جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے اپنی تعمیر کے اخراجات کا مطالبہ    کر سکتے ہیں ۔

2)اور اگر ہم دونوں بھائی اس کو خود خرید لیتے ہیں پھر بھی ہم تعمیر کے اخراجات وصول کرسکتے ہیں یا نہیں کیونکہ اگر ہم کسی دوسری پارٹی کو فروخت کریں تو ان سے بھی تو تعمیر کے اخراجات لیں گے ۔اس لیے اگر ہم خود خریدیں تو تعمیر کے اخراجات کی کیا صورت ہوگی؟ براہ کرم قرآن وسنت اور علماء کرام کی مشاورت سے اس مسئلہ کا حل ارشاد فرمادیں۔

3)مزید یہ کہ اس سلسلہ میں والد محترم کی وفات کے بعد والدہ کی موجودگی میں ایک بہن اور تین بھائیوں (ایک بھائی نے شرکت نہیں کی )نے ایک تحریری معاہدہ بھی کیا تھا جس کی کاپی لف ہے۔ معاہدہ میں شق نمبر2،4میں واضح لکھا گیا ہے کہ تعمیر کے پیسے بڑے بھائیوں کو ملیں گے۔ جگہ بھائی خریدیں گے اور تصفیہ  تک اوپر والی تینوں دوکانوں کا کرایہ بڑے بھائی وصول کریں گے۔گزارش ہے کہ اس بات کی وضاحت فرمادیں کہ کسی ایک وارث کی موجودگی یا عدم موجودگی کی وجہ سے مسئلہ میں کچھ فرق تو نہ ہوگا کیونکہ معاہدہ میں ایک بھائی شریک نہ تھے اوربعد میں بھی وہ بھائی اس معاہدے پر راضی نہ تھے اور راضی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بہن کو بھائیوں کے برابر حصہ دینے کا ذکر ہے۔ ان بھائی کا کہنا یہ ہےکہ بہن کا شریعت میں بھائی کے مقابلہ آدھا حصہ بنتاہے، برابر حصہ دینا شریعت کے حکم کےخلاف ہے،

اور اس بارے میں انہوں نے مفتی  شیر محمد صاحب سے بھی پوچھا تھا تو انہوں نے بھائی کو یہی بتایا تھا کہ معاہدہ ہی شریعت کے خلاف ہے لہذا یہ معتبر نہیں ۔

معاہدہ نامہ:  مندرجہ ذیل امور مؤرخہ 12فروری 2021ءکو تصفیہ طور پر تحریر میں لائی گئی۔

1۔تین مکانوں کا کرایہ تمام وارثین میں وراثت کے طریقہ پر تقسیم ہوگا۔

2۔بند والی پراپرٹی پر تعمیر کی لاگت میں جتنا حصہ دو بڑے بھائیوں کا ہے وہ انہیں مل جائے گا جبکہ تعمیر میں والد صاحب کی طرف سے جو رقم لگائی گئی تھی وہ تمام وارثین میں بطریق وراثت تقسیم ہوگی۔ اس مقصد کے لیے تعمیر کی موجودہ لاگت کا اعتبار کیا جائے گا۔

3۔ امی  کے مکان کی رجسٹری کےلیے تمام وارثین (چاروں بھائی، بہن اور والدہ) برابر حصہ ڈالیں گے۔ رجسٹری کے بعد مکان فروخت کرکے رقم کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا  اور چاروں بھائی، بہن اور والدہ میں برابر تقسیم کردیا جائے گا۔

4۔ بند روڈ والی پراپرٹی دو بڑے بھائی خرید لیں گے اور پراپرٹی کے تصفیہ تک ان تینوں دوکانوں کے کرایہ جات دو بڑے بھائیوں کے ہونگے۔

5۔پلاٹ کی موجودہ قیمت اندازاً 3000000(تیس لاکھ) روپے ہےموجودہ قیمت میں سے آدھے یعنی تقریباً 1500000(پندرہ لاکھ) روپےتین بڑے بھائیوں میں تقسیم ہوں گے جب کہ پلاٹ چھوٹے بھائی کا ہوگا اور یہ 1500000(پندرہ لاکھ) روپے عبدالباسط پر واجب الاداء ہوں گے۔

6۔ 400000(چار لاکھ)روپے جومکان کی خرید کےلیے دیے گئے تھے وراثت کے مطابق تقسیم ہوں گے۔وہ تین بڑے بھائیوں کے ذمہ  ہے۔

نوٹ: شق نمبر3کے متعلق وضاحت: یہ مکان والدہ کے نام تھا والدہ کافی عرصہ پہلے فوت ہوچکی ہیں اور مکان کو فروخت کرکے اس کی تقسیم بھی کرچکے ہیں۔ اس سے متعلق پوچھنے کی ضرورت نہیں۔

شق نمبر 4سے متعلق وضاحت: نمبر 1میں جو بتایا گیا کہ تین مکانوں کا کرایہ تمام وارثین میں…….الی آخرہ انہی تین جگہوں میں ایک وراثتی جگہ پر بھائیوں نے اپنے خرچ  سے (دو منزلہ دوکانیں) تعمیر کیں ہیں۔نیچے کی منزل کے بارے میں یہ طے ہوا تھا کہ اس کا کرایہ وراثتی طریقہ پر تقسیم ہوگا اور اوپر کی منزل پر بنی ہوئی دکانوں کا کرایہ ان بھائیوں کو ملے گا جنہوں نے تعمیر کی ہیں۔ مزید یہ کہ جب مذکورہ بھائی مذکورہ پوری جگہ کو خریدلیں گےتو جیسے اوپر کا کرایہ وہ پہلے وصول کررہے باقی نیچے والے (وراثتی) حصے کا کرایہ بھی وہی وصول کریں گے۔

شق نمبر5سے متعلق وضاحت: یہ پلاٹ بھائی کویونیورسٹی کی طرف سے ملا تھا یونیورسٹی کی طرف سے اپنے ملازمین کو قیمتاً پلاٹ دیا جاتاہے، کچھ رقم ایڈوانس میں لیتے ہیں اور باقی رقم قسطوں میں ادا کرنی ہوتی ہے۔ بھائی نے جب یہ پلاٹ یونیورسٹی سے لیا تھا چونکہ ان کے پاس پیسے کم تھے تو انہوں نے اپنے دوست کو اس پلاٹ میں شریک بنایا تھا۔ لہٰذا پلاٹ کی قسطیں بھائی اور ان کادوست دیتے رہے، پھر ان کے دوست کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بھائی سے پیسوں کا تقاضا کیا، پھر ان بھائی کے دوسرے بھائیوں کا معاہدہ ہوا کہ دوست کو ہم پیسے ادا کردیتے ہیں  اور پلاٹ میں ہم شریک ہوجاتے ہیں لہٰذا بھائیوں نے پندرہ لاکھ روپے ان بھائی کے دوست کو ادا کردیے اور پلاٹ میں شریک ہوگئے، پھر بھائی کا مطالبہ ہوا کہ آپ لوگوں نے جو قیمت میرے دوست کو ادا کر دی ہے میں آپ لوگوں کو لوٹا دوں گا تاکہ پلاٹ پوراپورا میرا ہوجائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1)وصول کر سکتے ہیں۔

2)وصول کرسکتےہیں۔

3) جوبھائی اس معاہدے میں شریک نہ تھا  اوراب بھی  وہ بھائی اس معاہدے پر راضی  نہیں اس کا  کل قیمت کے لحاظ سے  جتنا حصہ بنتا ہے وہ حصہ ا سے دے کر  باقی میراث کو تمام ورثاء  مذکورہ معاہدہ کے مطابق تقسیم کریں۔

نوٹ: باقی معاہدہ تو درست ہےالبتہ اس میں3نمبر شق تمام ورثاء کی رضامندی پر موقوف تھی۔ اگر تمام ورثاء اس پر راضی تھے تو معاہدے کی یہ شق درست ہے ورنہ جو وارث راضی نہیں  ان کے حق میں شق نمبر3 درست نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved