• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کی ایک صورت

استفتاء

زید (بھائی)  کا بیان:

      کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وراثت کا مکان ہے جس پر ایک بھائی (خالد )قابض ہے 1980ء میں والد صاحب نے مکان کی تعمیر کی تھی جس میں بھائی نے 10000 روپے والد صاحب کو دیئے تھے بھائی یہ بتانے سے  قاصر ہے کہ آیا یہ رقم والد صاحب کو قرض ، ہدیہ یا بطور امداد دی تھی 2010 ء میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا اس وقت سے بھائی اکیلا پورے مکان میں رہائش پذیر ہے  اس کے علاوہ والد صاحب کی جتنی بھی  چیزیں ہیں اس کے استعمال میں ہیں۔بھائی سے جب بھی مکان کی تقسیم کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے تعمیر میری ہے زمین کی قیمت لگالیں اور تقسیم کر لیں۔ اور فی الحال یہ مکان والد صاحب کے نام رجسٹر ہے۔

خالد (بھائی) کا بیان:

والد  صاحب کی حیات میں ہی میں نے بینک سے لون لے کر مکان کی تعمیر پر خرچ کیا   کیونکہ مجھے میرے والد صاحب نے کہا تھا کہ اس مکان پر آپ پیسے خرچ کریں یہ مکان بعد میں میں آپ کو دیدونگا۔ اور میرے علاوہ کسی نے بھی اس مکان پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا۔

وضاحت مطلوب ہے کہ:کیا خالی پلاٹ پر تعمیر کی تھی یا سابقہ عمارت کو گرا کر تعمیر کی تھی یا  سابقہ تعمیر میں  کچھ اضافہ یا کمی بیشی کی تھی؟

جواب وضاحت: (از: خالد)یہ صرف ایک کمرہ تھا جس کو والد صاحب نے  گرا دیا تھا پھر میں نے والد صاحب کے کہنے  پر تعمیراتی کام کیا جس میں میرے ہی پیسے لگے اور والد صاحب کے پیسے لگے یا نہیں یہ میرے علم میں نہیں اگر لگے بھی ہوں گے تو زیادہ  سے زیادہ دو ہزار(2000 ) روپے لگے ہوں گے کیونکہ اس وقت تعمیر کے کام پر جو خرچہ آیا وہ  سارا میں نے بینک سے لون لے کر کیا اور تعمیر پر اس وقت تقریبا دس ہزار(10000 ) خرچہ آیا  ۔دوسرے فریق والے بھی اس بات کو مانتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  زمین کی مالیت میں   سب ورثاء  اپنے اپنے  شرعی حصوں کے بقدر شریک ہوں گے اور عمارت میں  بھی  جتنے پیسے  والد کے لگے ان کے تناسب سے سب ورثاء  اپنے اپنے حصوں کے بقدر شریک ہوں گے اور جتنے پیسے بھائی رضوان احمدکے  لگے ان کے تناسب سے صرف  بھائی رضوان  حقدار  ہوں گے ۔

درر الحكام شرح مجلۃ الأحكام (المادة:  1309)میں ہے:

 إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه .

امداد الاحکام جلد (3/305)میں ہے :

سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ مشترکہ زمین میں ایک شریک نے باغ لگایا اور اس باغ نے تمام زمین کو گھیر لیا اور کوئی شیٔ زراعت کی اس زمین میں کوئی نہیں کرسکتا، ایسی حالت میں دوسرے شریک جنہوں نے باغ نہیں لگایا تو ان کو اراضی مذکورہ سے آمدنی حاصل نہیں ہوسکتی تو ثمرات باغ کا مالک محض باغ لگانے والا ہوگا یا سب شرکاء ثمر کے مالک ہوں گے اور درختوں کا مالک لگانے والا ہوگا یا سب شرکاء ہوں گے؟

الجواب :صورت مسئولہ میں درختوں کا مالک صرف لگانے والا ہی ہے، تمام شرکاء مالک نہیں، ہاں شرکاء کو یہ حق ہے کہ زمین کو تقسیم کرکے لگانے والے سے مطالبہ کریں کہ ہمارے حصہ زمین میں سے درختوں کو اکھاڑے نیز درخت لگانے سے اگر زمین ناقص ہوگئی ہو تو شرکاء اس زمین کے نقصان کا ضمان بھی اس سے لے سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved