• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کی ایک صورت

استفتاء

باپ کی وراثت کی تقسیم کے بارے میں سوال ہے کہ  باپ  کے وارثین میں ایک بیوی،  چار بیٹیاں  ہیں اور ایک  بیٹا تھا  جس کی وفات والد کے انتقال کے بعد ہوئی اور اس کی کوئی اولاد نہیں تھی،  اس نے اپنی بیوی کو اپنی وفات سے تقریباً 11 سال پہلے طلاق دیدی تھی ، باپ کے والدین پہلے ہی وفات پاچکے ہیں،باپ کے بھائی اور بہن میں سے کوئی بھی حیات نہیں ہے صرف بھائی کے چار بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہے۔ وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں میت کے کل ترکہ کے 576 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوی کو  100 حصے (17.361 فیصد) ،ہر بیٹی کو 112 حصے(19.440 فیصد فی کس)  اور چار بھتیجوں میں سے  ہر بھتیجے کو 7 حصے (1.215 فیصد فی کس)ملیں گے  جبکہ بھتیجی کو اس وراثت میں سے  کچھ نہ ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

8×6=48×12=576

بیوی 4بیٹیاں 1بیٹا 1بھتیجی 4بھتیجے
*** *** محروم
1 7
1×6 7×6
6 42
6 28 14
6×12 7×12فی کس
72 84+84+84+84

6×4=2412x7=168        مافی الید714×12=168

والدہ 4حقیقی بہنیں 1چچا زاد بہن 4چچا زاد بھائی
*** *** محروم ***
1×4 4×4 1×4
4 16 4
4×7 16×7 4×7
28 112 28
28+28+28+28 7+7+7+7

احیاء:       بیوی            4بیٹیاں                        4بھتیجے

100          112حصے فی کس         7حصے فی کس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved