- فتوی نمبر: 26-295
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
بیوی کا بیان:
’’امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں شریعت کی رو سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، براہِ مہربانی اس کا جواب دیجئے۔ میرے شوہر نے مجھے مختلف موقعوں پر طلاق کے الفاظ کہے ہیں۔ ایک دفعہ تین چار سال پہلے فون پر ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ اس کے بعد عدت کے اندر ہماری صلح ہوگئی تھی۔ پھر اس کے تقریبا سال بعد ایک لڑائی کے دوران کہا تھا کہ ’’جاؤ، میرے بچے یہاں پے چھوڑ دو، میری طرف سے فارغ ہو‘‘ اور یہ فارغ والا جملہ تین چار دفعہ کہا تھا۔ اس کے بعد درویش مسجد پشاور سے مفتی صاحب کو ساری صورتحال بتاکر پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اب تک دو طلاقیں ہوچکی ہیں اب اکٹھا رہنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا تو انہوں نے دوبارہ نکاح پڑھا دیا تھا۔ اس کے بعد اب 5 فروری کو پھر ایک لڑائی کے دوران کہا کہ ’’میں تمہیں چھوڑتا ہوں، چھوڑتا ہوں، چھوڑتا ہوں‘‘ اور کچھ دیر بعد کہا کہ ’’میں اپنی رضامندی سے یہ بات کہتا ہوں کہ میرا تمہارا میاں بیوی والا رشتہ باقی نہیں رہا، ختم ہوگیا ہے‘‘ اس آخری جملے کی رکارڈنگ بھی موجود ہے۔ تو کیا ہمارا نکاح باقی ہے یا ختم ہوگیا ہے؟‘‘
شوہر کا بیان:
’’میں نے صرف ایک دفعہ فون پر بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور اس کے بعد بھی رجوع کرلیا تھا، اس کے بعد میں نے کبھی طلاق نہیں دی۔ اور نہ کبھی طلاق کی نیت سے کچھ کہا ہے۔ بیوی کو ڈرانے کے لیے یہ تو کہا تھا کہ فارغ کردوں گا یا چھوڑ دوں گا لیکن یہ کبھی نہیں کہا کہ فارغ کردیا ہے یا چھوڑ دیا ہے۔ ابھی جب میں گھر گیا تو ہماری لڑائی ہوئی تو اس کے بعد میری بیوی نے مجھے مجبور کردیا کہ مجھے چھوڑ دو تو میں نے اس کا منہ بند کرنے کے لیے کہا تھا کہ ’’میں اپنی رضامندی سے یہ بات کہتا ہوں کہ میرا تمہارا میاں بیوی والا رشتہ باقی نہیں رہا، ختم ہوگیا ہے‘‘ جس کی ریکارڈنگ اس کے پاس ہے۔ اس وقت بھی میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔‘‘
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں جب شوہر نے فون پر پہلی دفعہ طلاق کا جملہ بولا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تو یہ جملہ چونکہ طلاق کے لیے صریح ہے اس لیے اس سے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی اور چونکہ اس کے بعد عدت کے اندر رجوع ہوگیا تھا اس لیے نکاح باقی رہا۔ اس کے بعد بیوی کے بیان کے مطابق جب شوہر نے ایک لڑائی کے دوران’’تم میری طرف سے فارغ ہو‘‘ کے الفاظ بولے تھے تو اگرچہ شوہر ان الفاظ کا منکر ہے لیکن بیوی نے چونکہ یہ الفاط خود سنے ہیں اور طلاق کے معاملے میں بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے جس کی وجہ سے اگر وہ طلاق کے الفاظ شوہر سے سن لے تو وہ اس پر عمل کی پابند ہوتی ہےلہٰذا ان الفاظ سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی تھی اور یہ جملہ بار بار کہنے سے بھی ’’لا یلحق البائن البائن‘‘ کے تحت ایک بائنہ طلاق ہی واقع ہوئی تھی اور نکاح ختم ہوگیا تھا اور یہ بائنہ طلاق پہلی طلاق سے مل کر دو طلاقیں ہوگئیں کیونکہ شوہر اگر طلاق دینے کے بعد رجوع کرلے یا دوبارہ نکاح کرلے تو اس سے ان طلاقوں کا اثر تو ختم ہوجاتا ہے لیکن وہ طلاقیں بالکل ختم نہیں ہوتیں بلکہ شمار میں رہتی ہیں۔ پھر اس کے بعد دوبارہ نکاح ہونے سے رشتہ قائم ہوگیا۔ پھر ایک لڑائی کے دوران جب شوہر نے متعدد بار کہا کہ ’’میں تمہیں چھوڑتا ہوں‘‘ تو ان الفاظ کا بھی اگرچہ شوہر منکر ہے لیکن چونکہ یہ الفاظ بھی بیوی نے خود سنے ہیں اس لیے ان سے بیوی کے حق میں تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔
در مختار (4/443) میں ہے:
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..
در مختار (5/25) میں ہے:
باب الرجعة: بالفتح وتكسر يتعدى ولا يتعدى (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة)
بدائع الصنائع (3/ 283) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد
احسن الفتاویٰ (ج۵، ص۱۸۸) میں ہے:
’’سوال: کوئی شخص بیوی کو کہے ’’تو فارغ ہے‘‘ یہ کونسا کنایہ ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
الجواب باسم ملہم الصواب: بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلانیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔‘‘
رد المحتار (449/4) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد
رد المحتار (519/4) میں ہے:
فإذا قال “رهاكردم” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved