- فتوی نمبر: 36-02
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > وکالت
استفتاء
مجھے ایک آدمی نے موبائل ٹھیک کروانے کے لیے دیا اور میں نے موبائل دکان سے ٹھیک کروا لیا اور دکاندار کو اس کی اجرت دینے لگا تو قریب میں بیٹھے مجھے جاننے والے شخص نے مجھ سے کہا کہ آپ اسے پیسے مت دیں۔ میں آپ کے پیسے دے دوں گا اور اس نے پیسے دے دئیے۔ آیا اب یہ پیسے جو دکان والے کو میری طرف سے میرےدوست نے دئیے ہیں کیامیں ان پیسوں کو اس آدمی سے لے لوں جس کا موبائل ٹھیک کروایا ہے یہ پیسے میرے لئےجائز ہوں گے یا ناجائز؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے لیے یہ رقم اس آدمی سے لینا جائز ہے کیونکہ جاننے والے شخص نے آپ کی طرف سے ادائیگی کی ہے نہ کہ موبائل کے مالک کی طرف سے۔ لہٰذا یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے خود ادائیگی کی ہو اور خود ادائیگی کی صورت میں آپ موبائل کے مالک سے ادا کردہ رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں اسی طرح مذکورہ صورت میں بھی مطالبہ کرسکتے ہیں۔
شامی (5/ 516) میں ہے:
(و) للوكيل (حبس المبيع بثمن دفعه) الوكيل (من ماله أو لا) بالأولى؛ لأنه كالبائع
قوله حبس المبيع) الذي اشتراه للموكل منح (قوله دفعه) قال في المنح: قيد بقوله دفعه؛ لأنه لو لم يكن دفعه فله الحبس بالأولى؛ لأنه مع الدفع ربما يتوهم أنه متبرع بدفع الثمن فلا يحبس، فأفاد بالحبس أنه ليس بمتبرع وأن له الرجوع على موكله بما دفعه وإن لم يأمره به صريحا للإذن حكما
فتاویٰ تاتارخانیہ (12/505) میں ہے:
من عليه الدراهم اذا وكل رجلا ان يقضى دينه ودفع اليه الدراهم ثم ان رب الدين وهب الدين من الوكيل وسلطه على قبضه حتى جازت الهبة استحسانا كان للوكيل ان يحبس ما في يده بذلك الدين
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved