• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مہتمم کا مدرسہ کے مطبخ سے اپنے گھر کی ضروریات پوری کرنے کا حکم

استفتاء

ایک شخص ایک مدرسہ کا مہتمم ہے۔مہتمم کا گھر مدرسہ سے متصل ہے جس کی بناء  پر مہتمم صاحب کا ساراوقت مدرسہ میں گزرتا ہے  اور ایام تعطیل میں جبکہ مدرسہ خالی ہوتا ہے مہتمم کے فرزندوں کے بیشتر اوقات مدرسہ میں گزرتے ہیں یعنی چوکیداری کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں ۔مہتمم صاحب کی تنخواہ متعین ہے اس کے علاوہ گھر کا مکمل خرچ (آٹا،تیل اور سبزی وغیرہ)مدرسہ سے ہی چلتا ہے ۔مہتمم صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے عوام کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ میرے گھر کا خرچ مدرسہ سے چلے گا۔اب ایام تعطیل میں مدرسہ میں صدقہ کے طور پر مرغے وغیرہ آتے ہیں  وہ گھر پر ہی بنتے ہیں اور اہل خانہ ہی اسے کھاتے ہیں ۔مدرسہ ایسا ہے جس میں شوریٰ کی میٹنگ جیسا کوئی انتظام نہیں ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اس طرح سے مدرسہ سے گھر کا خرچ لینا  اور مدرسہ کی چیزوں سے اہل خانہ کا فائدہ اٹھانا ان افراد کی چوکیداری کے سبب جائز ہے یا نہیں ؟

وضاحت مطلوب ہے: سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ اور مہتمم صاحب کا موقف کیا ہے ؟

جواب وضاحت: سائل کا سوال اپنے ہی متعلق ہے۔معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طریقہ کار کی شریعت میں گنجائش ہے؟ مقصود یہ ہے کہ مال حرام سے حفاظت رہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مہتمم کا اپنی خدمات کے عوض یا اپنے بچوں کی چوکیداری کے عوض  گھر کا مکمل خرچ مدرسہ کے مطبخ سے پورا کرنا  جائز نہیں ہے کیونکہ مکمل خرچ پورے طور پر معلوم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے  اجرت مجہول ہوجاتی ہے ۔ لہٰذا مہتمم کو چاہیے کہ وہ اپنی یا اپنے بچوں کی خدمات  کے عوض مدرسہ کے معتمد اساتذہ کے مشورے سے   کوئی معلوم اور متعین رقم طے کرلیں یا معلوم اور متعین آٹا، تیل وغیرہ طے کرلیں مثلا ماہانہ ایک  من آٹا، پانچ کلو تیل وغیرہ طے کرلیں۔

البحر الرائق (7/ 168)میں ہے :

وفي منية المفتي أقسام المتصرفين تصرف الأب والجد والوصي ومتولي الوقف لا يجوز إلا ‌بمعروف ‌أو ‌بغبن يسير

البحر ارائق  (8/ 4)میں ہے :

وإجارة ‌الوقف ‌ومال ‌اليتيم لا يجوز إلا بأجر المثل

شامی  (4/ 435)میں ہے :

ليس للقاضي ‌أن ‌يقرر ‌وظيفة في الوقف بغير شرط الواقف، ولا يحل للمقرر الأخذ إلا النظر على الواقف بأجر مثله

(قوله: بأجر مثله) وعبر بعضهم بالعشر والصواب أن المراد من العشر أجر المثل حتى لو زاد على أجر مثله رد الزائد كما هو مقرر معلوم، ويؤيده أن صاحب الولوالجية بعد أن قال: جعل القاضي للقيم عشر غلة الوقف فهو أجر مثله، ثم رأيت في إجابة السائل، ومعنى قول القاضي للقيم عشر غلة الوقف أي التي هي أجر مثله لا ما توهمه أرباب الأغراض الفاسدة إلخ بيري على الأشباه من القضاء.

فتح القدیر (6/ 240)میں ہے :

وللمتولي أن يستأجر ‌من ‌يخدم ‌المسجد بكنسه ونحو ذلك بأجرة مثله أو زيادة يتغابن فيها، فإن كان أكثر فالإجارة له وعليه الدفع من مال نفسه، ويضمن لو دفع من مال الوقف

شامی  (4/ 366)میں ہے :

(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم

الاصل لمحمد بن الحسن (4/ 21)میں ہے :

كل ‌إجارة ‌فيها ‌رزق الغلام أو علف الدابة فإنه فاسد لا يجوز؛ لأن هذا مجهول.

خیر الفتاوی( 6/672)میں ہے :

سوال : ایک مدرس جبکہ وہ تنخواہ مدرسہ  سے لیتا ہے پھر اپنا اور بچوں کا کھانا مکمل طور پر نمک مرچ اور آٹے کی پسائی تک مدرسہ سے لیتا ہے جبکہ مکان اور بجلی کا بل بھی مدرسہ کے ذمہ ہے ۔علاوہ ازیں مدرس کے مہمانوں کا مکمل خرچ مدرسہ کے ذمہ ہے اگر صدقہ کا مال یا کوئی اور چیز مثلا گوشت وغیرہ یا دودھ وغیرہ طلبہ کے لیے آجائے تو ان میں سے اپنے بیوی بچوں کا حصہ بھی نکالتا ہے۔نہ ملنے پر ناراض ہوتا ہے۔کیا از روئے شریعت یہ سب کچھ جائز ہے کہ مدرس کو  تنخواہ  اور مکان کے علاوہ ہمہ سہولیات زندگی میسر کی جائیں گی یا نہیں؟ نیز مہتمم صاحب تنخواہ اور مکان کے علاوہ مذکورہ بالا سہولیات  مدرسہ کی طرف سے مدرس کو میسر کریں تو  عند اللہ ماجور ہوں گے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔

الجواب :زکوۃ ،عشر و صدقات واجبہ سے مدرس کو براہ راست  تنخواہ  دینا شرعاً جائز نہیں  اور اس مد میں آنے والی اشیاء سے مدرس کا اپنی بیوی بچوں کے لیے حصہ نکالنا جائز نہیں کیونکہ زکوۃ کی تعریف میں یہ شرط ہے کہ وہ کسی منفعت کے بدلے میں نہ ہو ۔مع قطع المنفعة عن الملك من كل وجه (الدر المختار جلد 3 ص 206)

اسی طرح کھانے اور مہمانوں کے اخراجات وغیرہ کو تنخواہ  کا حصہ بنانا شرعاً جائز نہیں  اس صورت میں اجارہ فاسد ہے۔وكل اجارة فيها رزق او علف فهي فاسدة (ہندیہ،جلد4 ص 442)

الحاصل: حضرت مہتمم صاحب کی اس قدر فیاضی  مدرسہ کے وقف کے مال کے شرعی اصول کے  خلاف ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved