- فتوی نمبر: 32-136
- تاریخ: 28 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مدارس کے احکام
استفتاء
ہمارے مدرسے کے مہتم صاحب تبلیغ میں جا رہے ہیں تو کیا وہ مدرسے سے تنخواہ لے سکتے ہیں؟ نیز اس سے پہلے ایک استاد تبلیغ میں سال کے لیے گئے تھے تو مدرسے والے ان کو تنخواہ دیتے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر مدرسے کا ضابطہ ہو یا عرف ہو کہ تبلیغ کے لیے جانے والے کو چھٹیوں کی تنخواہ دی جائے گی تو مہتمم صاحب بھی مدرسے سے تنخواہ لے سکتے ہیں ورنہ لینا جائز نہیں۔
شامی (4/ 372) میں ہے:
«فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا»
کتاب النوازل (13/234) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک ایسا مدرسہ جس کی بنیاد دعوت پر رکھی گئی ہو کہ یہاں سے ایسے علماء فارغ ہوں جو اُمت کا درد رکھنے والے ہوں، اور یہاں سے فارغ ہونے والے اکثر علماء کا سال بھی لگ چکا ہے، جو اپنے اپنے علاقہ اور اضلاع میں تبلیغی ومکتبی خدمت اچھی طرح انجام دے رہے ہیں، اور وہاں اثرات بھی اچھے ہیں، اِس مدرسہ میں ہر سرپرست اپنے بچے کا داخلہ اسی بنیاد پر کراتا ہے کہ یہ دعوت کا مدرسہ ہے، اور ہمارا بچہ بھی داعی بنے گا، اور اِس مدرسہ کے بانی حضرت مولانا محمد یونس صاحب سابق امیر تبلیغ مہاراشٹر نے اس کی ترتیب بنائی تھی، اور اُنہوں نے اس مدرسہ کے اَساتذہ کو اِس لئے چندہ سے آزاد کیا ہے کہ یہ باری باری جماعتوں میں جایا کریں؛ تاکہ اِس مدرسہ کا بنیادی مقصد پورا ہو۔ اور حضرت مولانا محمدیونس صاحب کے زمانے سے لے کر آج تک اِسی پر عمل ہوتا رہا کہ اساتذہ مشورہ سے جماعتوں میں جاتے رہے، اور اُنہیں مدرسہ سے تنخواہیں دی جاتی رہیں، اس پر کسی نے بھی نکیر نہیں کی۔ اور یہ بات اِس مدرسہ کے عرف اور عمل میں بھی ہے۔
اَب سوال یہ ہے کہ ایسے مدرسہ سے جو اساتذہ دورانِ تعلیم مشورہ سے جماعت میں جاتےہیں تو کیا ان ایام کی تنخواہ ان کو دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب: اگر کسی مدرسہ میں مجلس شوریٰ یا انتظامیہ کمیٹی یہ ضابطہ بنائے کہ جو اَساتذہ جماعت میں وقت لگانے کے لئے جائیں گے، اُن کی رخصت من جانب مدرسہ سمجھی جائے گی، اور اِس عرصہ کی تنخواہ اُنہیں مدرسہ کے فنڈ سے ملے گی، تو شرعاً اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تبلیغ بھی دین کا ایک شعبہ ہے اور عوام وخواص تک دین پہنچانا اہل مدارس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
عن عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده رضي الله عنه أن رسو ل الله صلی الله عليه وسلم قال: الصلح جائز بین المسلمین إلا صلحًا حرّم حلالاً أوأحلَّ حرامًا، والمسلمون علی شروطهم إلا شرطا حرم حلالاً أو أحل حرامًا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved