- فتوی نمبر: 35-292
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ میرے خاوند نے 2015 کے کسی ماہ میں خاندانی معاملات پر ناراض ہو کر مجھے یوں کہا کہ ” یوں تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ، اب سن لو کہ آئندہ اگر میری مرضی کے خلاف تم اپنے ان رشتہ داروں سے ملی جن سے ملنا مجھے پسند نہیں ہے یا فون پر ان سے بات کی تو اگر ایک دفعہ ملی یا فون پر بات کی تو ایک طلاق اور اگر تین دفعہ ملی یا بات کی تو تین طلاق ۔” شوہر کی مراد میرے والدین اور بہن بھائی وغیرہ تھے ۔اس گفتگو کے بعد میں نے اپنے والدین سے فون پر رابطہ کرکے انہیں مطلع کیا کہ شوہر نے منع کردیا ہے لہٰذا آج کے بعد میرے ساتھ آپ میں سے کوئی بھی رابطہ نہ کرے۔ پھر شوہر نے ایک فتوی حاصل کیا جس میں میرا بیان نہیں لیا گیا ۔ ( فتوی ساتھ لف ہے)۔اس کے بعد ہم میاں بیوی کے درمیان صلح ہو گئی اور خاوند نے اپنی مذکورہ بالا پابندی کو مجھ سے ہٹا دیا اور اس بات پر اپنے چند عزیزوں کو گواہ بھی بنادیاکہ میری طرف سے آج کے بعد بیوی پر کوئی پابندی نہیں ہے جس کو جس وقت ملنا چاہے یا فون پر بات کرنا چاہے میں اس کو منع نہیں کروں گا۔
ایک پڑوسن جس سے شوہر کے گھر والوں کے تعلقات خراب تھے 2017 میں شوہر نے مجھے ان سے ملنے سے منع کیا اور اس سے ملنے پر طلاق کو معلق بھی کر دیا کہ ” اگر تو فلاں سے ملی تو تجھے طلاق ہے” اور ان سے ملنے پر اپنی مرضی اور اجازت کی قید بھی نہیں لگائی۔اسی طرح میرے سسر نے بھی میری ساس کو ان سے ملنے سے منع کردیا اور طلاق کی شرط لگادی ۔ اس کے بعد اس پڑوسن سے کہیں اچانک سامنا ہوگیا تو ملاقات کرنی پڑی ۔اسی طرح اس ملاقات کے تقریبا ایک سال بعد ایک فوتگی میں اسی پڑوسن سے ملاقات ہوگئی ۔ اس سارے عرصہ میں ہم میاں بیوی اکٹھے رہتے رہے ۔
2025 کے رمضان میں گھریلو ناچاقی ہوئی ۔ میں گھر سے جانا چاہ رہی تھی تو شوہر نے یہ الفاظ بولے کہ ” میں دیکھتا ہوں تم کیسے جاتی ہو ، میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں اور اگر میری مرضی کے بغیر گھر سے باہر قدم نکالا تو تیسری بھی ہوجائے گی ۔ ” میری بیٹی جس کی عمر 22 سال ہے وہ وہاں نہیں تھی لیکن شور سن کر آگئی تھی اس کا کہنا ہے یہ الفاظ میں نے سنے ہیں : “میری طرف سے تجھے طلاق ہے ( درمیان کے الفاظ اچھی طرح یاد نہیں ) مگر تیسری بھی ہوجائے گی کے الفاظ یاد ہیں ۔ اس کے بعد میرے شوہر نے باہر نکلنے کی اجازت دے دی تھی ۔ میں اپنے والد کے ساتھ ان کے گھر آگئی تھی اور تب سے یہیں ہوں ۔
اس کے بعد ایک اور موقع پر ایک فیملی سے ملنے سے شوہر نے منع کیا تھا اور ان سے ملاقات پر طلاق کو معلق کردیا تھا ۔ مئی 2025 میں جب میرے والد کا انتقال ہوا تو وہ فیملی بھی تعزیت کے لیے آئی اور اصرار کرکے مجھ سے ملاقات کی اور تعزیت بھی کی ۔ اب شوہر کی طرف سے دوبارہ صلح کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس مسئلہ میں شرعی راہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر کا بیان لیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا ۔
شوہر کا بیان :
2015 میں جو ہمارا جھگڑا ہوا اس میں بیوی کے اس بیان سے اتفاق ہے کہ میں نے یہی الفاظ بولے تھے جو اس نے بتائے۔ اس کے بعد میں نے جامعہ محمدیہ اسلام آباد سے فتوی حاصل کیا جس میں بتایا گیا کہ طلاق نہیں ہوئی ۔ اور وہ سوال ہم میاں بیوی نے اکٹھے بیٹھ کر بنایا تھا ۔ لیکن بیوی کی یہ بات درست نہیں کہ اس نے اس عرصہ میں والدین کو فون کیا ہو کیونکہ اس کے بعد ان کا بھائی حج پر جاتے ہوئے ان سے ملنے آیا تو اس کو بتایا گیا کہ یہ پابندی ہے اور طلاق ہوجائے گی ۔اگر اس نے فون کرکے بتایا ہوتا تو وہ کیوں ملنے آتا ۔ بیوی نے جو بعد کا واقعہ بیان کیا ہے پڑوسن سے ملنے پر تعلیق طلاق اور ایک فیملی سے ملنے پر تعلیق تو ان باتوں کی کوئی حقیقیت نہیں یہ سب غلط بیانی ہے ۔ البتہ 2025 میں جب ہمارا جھگڑا ہوا ہے تو میں نے اس میں یہ الفاظ بولے تھے ” تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے میری مرضی کے بغیر اگر تو گھر سے باہر گئی ” پھر اس کے بعد میری اجازت سے اس کے والد ا س کو ساتھ لے گئے تھے ۔ میں نے حال ہی میں اس ساری صورتحال کے متعلق جامعہ محمدیہ سے فتوی حاصل کیا ہے ۔( جو کہ ساتھ لف ہے )۔بات اتنی ہی ہے لیکن کچھ لوگ میرا گھر بسانا نہیں چاہتے اس لیے بیوی اس طرح کے بیان دے رہی ہے ۔
تنقیح : بیوی کے بھائی سے 2015 والے واقعہ کے متعلق جب ہم نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ بیرون ملک رہتا ہے حج پر جانے کے لیے پاکستان آیا تھا تو بہن سے ملنے چلا گیا تب اسے اس ملاقات پر پابندی کا علم ہوا ۔اس سے قبل وہ اس معاملہ سے لاعلم تھا ۔
نوٹ : اصل سوال بیوی کے بھائی کی طرف سے آیا تھا ۔ بیوی کا جو بیان فون پر لیا گیا تھا اس کو سوال ہی کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
طلاق کے معاملہ میں بیوی بمنزلہ قاضی کے ہے یعنی اگر اُس نے طلاق کے الفاظ خود سنے ہوں یا کسی معتبر ذریعہ سے اسے طلاق کا علم ہوا ہو تو وہ اپنے حق میں اپنے سُنے ہوئے پر یا معتبر ذریعہ سے ملنے والی طلاق کی خبر پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ اس ضابطے کے پیش نظر مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،لہذا بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں 2015 کے جھگڑے میں جب شوہر نے یہ الفاظ بولے تھے ” اگر میری مرضی کے خلاف تم اپنے ان رشتہ داروں سے ملیں جن سے ملنا مجھے پسند نہیں ہے یا فون پر ان سے بات کی تو اگر ایک دفعہ ملی یا فون پر بات کی تو ایک طلاق اور اگر تین دفعہ ملی یا بات کی تو تین طلاق ۔” اور اس کے بعد بیوی کے بقول اس نے اپنے والدین کو فون کیا جنہیں فون کرنے پر شوہر نے طلاق کو معلق کیا تھا ،اگر بیوی اپنی بات میں سچی ہے تو اس کے حق میں ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی کیونکہ طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے وہ اپنے علم کے مطابق عمل کی پابند ہوتی ہے چاہے شوہر اس سے انکار ہی کرے۔ اس کے بعد چونکہ میاں بیوی اکٹھے رہتے رہے اس لیے اس طلاق سے رجوع ہوگیا ۔ بیوی کے بیان کے مطابق دوسرا واقعہ جب 2017 میں شوہر نے پڑوسن سے ملنے پر طلاق کو معلق کیا تھا اور اس کے بعد اچانک اس سے ملاقات ہوگئی تو اس سے دوسری طلاق رجعی واقع ہوگئی ۔ پھر اس کے بعد میاں بیوی کے ساتھ رہنے سے رجوع ہوگیا اور ایک سال بعد جب کسی فوتگی میں اسی پڑوسن سے پھر ملاقات ہوگئی تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ۔ جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ۔
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
شامی(8/106) میں ہے:
قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا ……….. وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا.
فتاوی عالمگیری (2/317) میں ہے
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق
فتاوی محمودیہ(13/298)میں ہے:
سوال:زید نے کہا تین مرتبہ”میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں “زوجہ کا باپ لڑکی کو اپنے ہمراہ لے گیا،زید طلاق سے منکر ہےاورکہتا ہے کہ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر تم لے گئے تو میں طلاق دے دوں گا۔۔۔۔زوجہ الفاظ مذکور سابقہ کا خود سننا ظاہر کرتی ہےصورت مذکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اور نکاح جدید کس طرح ممکن ہے؟
جواب:جب عورت نے 3مرتبہ طلاق دینا خود سنا ہےتو پھر اس کے لیے زید کواپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں۔ جو جائز صورت بھی عورت کے قبضہ میں ہو زید سے بچنے کی اختیار کی جاوے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
