• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مختلف مواقع پر بیوی کو طلاق کے الفاظ بولنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتےہیں مفتیان کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے میرے خاوند نے مختلف موقعوں پر مختلف الفاظ میں طلاق دی ہے، سب سے پہلے انہوں نے شادی کے چند دن بعد ایک موقع پر مجھے غصے کی حالت میں کہا کہ ’’میری طرف سےتم آزاد ہو‘‘ اس کے بعد فورا  زبانی رجوع ہو  گیا اور ہم اکٹھے رہنے لگے، اس کے بعد اکثر وہ یہی کہتے رہتے تھے کہ ’’میری طرف سے تم آزاد ہو‘‘ ہماری شادی کو تقریبا 18 سال ہو گئے ہیں اور ان 18 سالوں میں کئی مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ کہے ہیں،  اور آج سے تقریبا  دو سال پہلے انہوں نے کئی دفعہ مجھے کہا کہ ’’اگر میری اجازت کے بغیر کسی بھی حالت میں تم باہر گئی تو تم تین طلاق پر آزاد ہو‘‘  اس کے ایک دن بعد انہوں نے مجھے مارا تو میں غصہ کی وجہ سے ان کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل گئی تو وہ مجھے گلی سے لے آئے، اس کے چند دن بعد آج سے دو سال پہلے رمضان میں سحری کے وقت انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’’تم جانا چاہو تو چلی جاؤ کون سی تم میرے نکاح میں ہو، تمہیں تو ویسے بھی طلاق ہو چکی ہے‘‘ لیکن اب وہ انکار کرتے ہیں کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی اور وہ دوسرا نکاح بھی کر چکےہیں، اب آپ بتا دیں کہ مجھے کتنی طلاقیں  ہوئی ہیں ۔ واضح رہے کہ میرے خاوند چرس کا نشہ کرتے ہیں اور مجھے بہت مارتے بھی ہیں، تینوں مرتبہ طلاق کے الفاظ بولتے وقت انہوں نے چرس کا نشہ کیا ہوا تھا لیکن ہوش میں تھے، بالکل ٹھیک باتیں کر رہے تھے اور کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے معلوم ہو کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں۔

شوہر کا بیان:

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ بیان دیا کہ ’’ہماری شادی کو تقریبا 18 سال ہو گئے ہیں، ہمارے پانچ بچے ہیں، میری بیوی پردے کا اہتمام نہیں کرتی اس لیے میں نے صرف یہ کہا تھا کہ بغیر اجازت گھر سے نہ نکلا کرو اور پردہ کر کے نکلا کرو، میں نے طلاق کے الفاظ کبھی زبان سے نہیں نکالے، نہ میں نے کبھی یہ کہا ہے کہ میری طرف سے تم آزاد ہو اور نہ میں نے طلاق کی شرط لگائی ہے میری بیوی جھوٹ بولتی ہے‘‘

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے،  اب اگر میاں بیوی دوبارہ  اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم  دو  گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر طلاق کے الفاظ بولنے سے انکار کرتا ہے لیکن چونکہ طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے  اور وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے لہذا بیوی کے بیان کے مطابق   پہلی مرتبہ جب شوہر نے  غصے کی حالت میں یہ کہا کہ ’’میری طرف سےتم آزاد ہو‘‘ تو بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی کیونکہ یہ الفاظ کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں ، جن سے غصے  کی حالت میں شوہر کی طلاق کی  نیت نہ بھی ہو تو  بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو جاتی ہے، نیز متعدد مرتبہ یہ الفاظ کہنے کے باوجود ’’لا یلحق البائن البائن‘‘ کے تحت ایک طلاق واقع ہوئی ہے، پھر  تقریبا سولہ سال بعد عدت گزرنے کے بعد جب شوہر نے یہ کہا کہ ’’اگر میری اجازت کے بغیر کسی بھی حالت میں تم باہر گئی تو تم تین طلاق پر آزاد ہو‘‘ اور  ’’تم جانا چاہو تو چلی جاؤ کون سی تم میرے نکاح میں ہو، تمہیں تو ویسے بھی طلاق ہو چکی ہے‘‘   تو چونکہ یہ الفاظ کہتے وقت بیوی شوہر کے نکاح میں نہیں تھی لہذا  طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی شامی (449/4) میں ہے:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.

درمختار (4/521) میں ہے:

 (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا

و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية

درمختار (5/42) میں ہے:

(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)

درمختار مع ردالمحتار (419/4) میں ہے:

(ومحله المنكوحة)

(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة.

امدادالاحکام(2/610) میں ہے:

اور چوتھا جملہ یہ ہے کہ “وہ میری طرف سے آزاد ہے” اس کنایہ کا حکم در مختار میں صریح موجود ہے کہ غضب و مذاکرہ میں بدون نیت بھی طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved