• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مختلف مواقع پر تین طلاقیں دینے کا حکم

استفتاء

بیوی کا بیان:

 مفتی صاحب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے تقریبا 7 سال پہلے مجھے دو طلاقیں دی تھیں، پہلی بار انہوں نے کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دتی ‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی) اس کے تقریبا آٹھ یا دس دن بعد ہم نے رجوع کر لیا تھا،  پھر کچھ عرصے کے بعد انہوں نے مجھے دوسری طلاق دی اور کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دتی ‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی)  پھر تقریبا آٹھ یا دس دن بعد ہم نے رجوع کر لیا تھا، اب انہوں  نے تیسری مرتبہ غصے میں طلاق دی اور کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دیناں‘‘ (میں تجھے طلاق دیتا ہوں) ان کی طلاق کی نیت نہیں تھی غصے میں بغیر ارادے کے زبان سے طلاق کے الفاظ نکل گئے، میں معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ تیسری طلاق واقع ہو گئی ہے یا کوئی گنجائش باقی ہے؟

بیوی کا رابطہ نمبر:**********

شوہر  کا بیان :

شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا:

میں نے تقریبا آٹھ یا نو سال پہلے اپنی بیوی کو وقفے وقفے سے دو طلاقیں دی تھیں، پہلی بار میں نے کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دتی ‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی)  اس کے چند دن بعد ہم نے رجوع کر لیا تھا،  پھر کچھ عرصے کے بعد میں نے  دوسری طلاق دی اور کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دتی ‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی)  پھر چند دن بعد ہم نے رجوع کر لیا تھا، اب میں  نے تیسری مرتبہ غصے میں طلاق دی اور کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دیناں‘‘ (میں تجھے طلاق دیتا ہوں) میری طلاق کی نیت نہیں تھی غصے میں بغیر ارادے کے زبان سے طلاق کے الفاظ نکل گئے، لیکن غصے میں مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں،  اب اس صورتحال میں تیسری طلاق واقع ہو گئی ہے یا کوئی گنجائش باقی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی غصے میں اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے، غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تیسری طلاقیں واقع ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں جب شوہر نے پہلی مرتبہ بیوی سے کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دتی ‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی) تو  ان الفاظ سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی اور عدت کے اندر رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا،    پھر کچھ عرصے کے بعد جب شوہر نے یہ   کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دتی ‘‘ (میں نے تجھے طلاق دی)   تو ان الفاظ سے دوسری رجعی طلاق واقع ہو گئی اور عدت کے اندر رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا،      پھر جب شوہر نے  کہا کہ ’’میں تینوں طلاق دیناں‘‘ (میں تجھے طلاق دیتا ہوں)   تو تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔

فتاوی شامی (4/439) میں ہے:

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله……………فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved