- فتوی نمبر: 35-231
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک خاتون کا انتقال ہوا۔ ان کی وراثت میں ایک مکان ہے، مکان کی مالیت معلوم نہیں، مرحومہ کے شوہر اور مرحومہ کے والدین ان سے پہلے فوت ہوچکے ہیں ۔ورثاء میں چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں چاروں بچے والدہ کی وفات کے بعد وفات پا گئے ہیں ، چاروں کی وفات کی ترتیب یہ ہے کہ سب سے پہلے چھوٹی بیٹی فوت ہوئی اس کا شوہر پہلے فوت ہوچکا تھا لیکن اس کے تین بچےدو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، دوسرے نمبر پر چھوٹا بیٹا فوت ہوا ، اس کے ورثاء میں بیوی اور تین بیٹے حیات ہیں ، تیسرے نمبر پر بڑی بیٹی فوت ہوئی ا س کا شوہر پہلے فوت ہوچکا تھا، اولاد نہیں ہے، چوتھے نمبر پر بڑا بیٹا فوت ہوا اس کے ورثاء میں صرف بیوی ہے، اولاد نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ کے کل ترکہ کے 360 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے تین پوتوں میں سے ہر پوتے کو 80 حصے (22.22 فیصد فی کس)، دو نواسوں میں سے ہر نواسے کو 24 ،24 حصے (6.66فیصد فی کس) ، نواسی کو 12 حصے (3.34فیصد) ، چھوٹے بیٹے کی بیوی کو 15 حصے (4.17فیصد) اور بڑے بیٹے کی بیوی کو 45 حصے (12فیصد) ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
