- فتوی نمبر: 26-296
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرانام زید ہے ، میرے والد کا انتقال 1998ء میں ہوا جبکہ ہمارے دادا اور دادی ہمارے والد سے پہلے فوت ہوگئےتھے۔ہم چاربھائی(خالد ،بکر ،عمر ، اور زید )تھےاورہماری کوئی بہن نہیں۔میں نےاپریل 2012ء شادی کی ۔ خالد نے جنوری 2014ء میں شادی کی ۔ میری والدہ کا انتقال جون 2014 ء میں ہوا جبکہ ان کے والدین ان سے پہلے فوت ہوچکے تھے ۔ عمر کی شادی مارچ 2021ء میں ہوئی ۔ میرے بڑے بھائی عمر کا اگست 2021 ء میں انتقال ہوگیا ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اس نے صرف ایک بیوہ چھوڑی ہے ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ظہیر آباد پشاورمیں وراثتی مکان ہےجو 5 مرلہ پر ہے ۔ میرے والد نےاپنی زندگی میں مذکورہ مکان آدھابیوی کےنام(2.5مرلہ )اور آدھا (2.5مرلہ ) نور کے نام پر رجسٹر کروایا تھا ۔ میرے والد نے اپنی زندگی میں بقیہ جائیداد ان کے بقیہ بیٹوں) خالد (OPF)پلاٹ عمر اور زید (وارث آباد مکان) کے نام پر منتقل کردی ۔ خالد نے اپنی جائیداد کا حصہ (OPF) پلاٹ بیچ دیا جب وہ زندہ تھا ۔ امین کے نکاح نامے میں ظہیر آباد والے مکان میں ان کے حصے میں سے 1/2حصہ اس کی اہلیہ کے حق مہر میں لکھا گیا ہے (جس کے الفاظ یہ ہے”مہر کی رقم ۔۔لڑکے کے حصہ میں سے نصف مکان موجودہ رہائش والا ) حالانکہ اس مکان میں 2.5مرلہ نور کا ہے اور باقی 2.5مرلہ میری والدہ کا ہے جبکہ نور اوروالدہ کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ گھر مہر میں لکھوایا گیا ہے ۔
میرا پہلا سوال یہ ہےکہ 2.5 مرلہ(ماں کا حصہ ) ظہیر اباد گھر بیٹوں میں کیسے تقسیم ہوگا ؟ حالانکہ خالد فوت ہوچکاہے ، کیا وہ اپنے حصے کا اہل ہے یا نہیں ؟
ا وردوسرا سوال یہ ہے کہ اگر خالد اپنے حصے کا اہل ہے تو اس کی بیوی کو حصہ کیسے ملے گا ؟ خالد کے حصہ سے 1/2 حصہ یا شریعت کے مطابق 1/4حصہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔
تنقیح: ظہیر آباد والے مکان کے بارے میں خالد کی بیو ہ کا کہنا ہےکہ گھر کی آدھی ملکیت میری ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ماں کے مکان میں آدھےحصے (2.5مرلے )کے کل 4حصے کیے جائینگے جن میں سے1،1حصہ (بشمول خالد کے) ہر ہر بیٹے کو ملے گا۔اور پھر خالد کے حصے کاآدھا صرف ان کی بیوہ کو(بحیثیت قرض خواہ کے) ملے گا۔اور باقی آدھے حصے کو 4حصوں پر تقسیم کر دیا جا ئیگا جس میں سے 1،1 حصہ ہر ہر بھائی (بکر ،عمر ، زید)کو ملے گا اور ایک حصہ امین کی بیوہ کو(بحیثیت وارث کے) ملے گا۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں خالد کا اپنی بیوی کے حق مہر میں ظہیر آباد والے مکان میں اپنے حصے کاآدھا لکھنےسے ان کے مذکورہ حصہ انکے ذمہ قرض ہو گیا جس کی ادائیگی انہوں نے اپنی زندگی میں نہیں کی ۔لہٰذا اس کے مرنے کے بعد میراث میں سے پہلے اس مکان کا آدھا حصہ بیوی کو قرض کی ادائیگی کے طور پر دیا جائیگا اور باقی ماندہ آدھا مکان ورثہ میں میراث کے طریقے پر تقسیم کیاجائیگا جس میں ان کی بیوی کوبھی بحیثیت وارث کے ایک حصہ ملے گا ۔
المحيط البرہانی (۴/۱۲۰)میں ہے:
«وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير، أو على هذه الداروهي ملك الغير، فالنكاح جائز والتسمية صحيحة، فتسمية مال الغير صداقاً صحيح؛ لأن المسمى مال متقوم، فبعد ذلك ينظر؛ إن أجاز صاحب الدار فصاحب العبد ذلك فلها غير المسمى، وصار الجواب في النكاح متى اجازالمستحق التسمية نظير الجواب في البيع.وإن لم يجزالمستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية، حتى لا يجب مهر المثل، وإنما تجب قيمة المسمى بخلاف البيع، فإن في باب البيع متى لم يجز المستحق التسمية ينفسخ البيع من كل وجه حتى لا تجب قيمة المسمى»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved