• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مشترکہ گھر میں سے بھائی کا حصہ خرید کر اس بیٹے کے نام کرنا جس نے اس حصے کی قیمت ادا کی۔

استفتاء

ہم دو سگے بھائی ہیں، کچھ عرصہ ہوا کہ ہم نے  مل کر ایک چار مرلہ کا پلاٹ خریدا تھا جس کی رجسٹری ہم دونوں بھائیوں کے نام ہے، رجسٹری میں نصف حصہ  برابر ہم دو نوں بھائیوں کے نام لکھا ہوا ہے، جوں جوں رقم  میسر آئی  اس پلاٹ پر ہم دونوں نے مکان تعمیر کیا اور اس میں اپنے بیوی بچوں کیساتھ رہائش پذ یر ہیں، بچے جوان ہوگئے ہیں اور شادی شدہ بھی ہیں، مکان تین منزلہ ہے اور رہائش کیلیے تنگ پڑرہا ہے۔

ہمارا ارادہ ہے کہ اس مکان کو فروخت کرکے  جو رقم حاصل ہو وہ نصف نصف ہم دونوں آپس میں تقسیم کرلیں یا ایک بھائی قیمت فروخت کا نصف دوسرے  بھائی کو ادا کرکے اپنا حصہ مکان اس کے نام رجسٹری کردے۔

میرے پانچ بیٹے ، بیوی اور بیٹیاں الحمد للہ زندہ  ہیں۔ ایک بیٹا چند سال پہلے فوت ہوچکا ہے اگر میرا بھائی مکان کی نصف قیمت فروخت لیکر  اپنا  مکان مجھے دینے پر راضی ہوجائے تو میرا ایک بیٹا میرے  بھائی کو رقم دینے کو تیار ہے مگر چاہتا ہے کہ مکان کے جس  حصہ کی کی قیمت وہ پوری ادا کررہا ہے  اس کی رجسٹری اس کے نام کردی  جائے ۔کیا اس طرح کرنے سے میری  بیوی اور بچوں کی حق تلفی تو نہیں ہوگی۔ کیا شریعت کی رُو سے میں ایسا کرسکتا ہوں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکور ہ صورت میں مکان کا مذکورہ حصہ اپنے بیٹے کے نام کرنا آپ کے لیے جائز ہے اس میں آپ  کے بیوی ، بچوں کی حق تلفی نہیں کیونکہ آپ کا بیٹا یہ  حصہ خرید رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved