• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کسٹمر کا کورئیر کمپنی سے پارسل وصول نہ کرنے کی صورت میں پارسل کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

1۔میں ایک کورئیر کمپنی میں کام کرتا ہوں، کسٹمر جو پارسل وغیرہ بھیجتے ہیں  ان میں  کاغذات اور دوسری استعمال کی چیزیں (کپڑے، کاسمیٹکس، جیولری، گھڑی وغیرہ) بھی ہوتی ہیں، بعض اوقات یہ پارسل (ایڈریس نامکمل ہونے کی وجہ سے یا فون نمبر  نہ ہونے کی وجہ سے یا اس طرح کی مختلف وجوہات کی بناء پر) واپس آجاتے ہیں تو  ہم بھیجنے والوں  سے رابطہ  کرتے ہیں کہ وہ اپنا پارسل واپس لے جائیں اکثر کسٹمرز اپنے پارسل واپس لے جاتے ہیں، لیکن کچھ کسٹمر ایسا نہیں کرتے وہ اپنے پارسل واپس لینے نہیں آتے۔تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

2۔بعض کسٹمر اپنا رابطہ نمبر بھی نہیں  دیتے ہیں اس لیے ان سے  رابطہ نہیں ہوتا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ایسے کسٹمرز اگر پارسل واپس لینے نہیں آتے تو ان سے واپسی کا ایڈریس  معلوم کرکے انہیں ان کا پارسل واپس  کر دیں اور اگر وہ اپنا ایڈریس نہ دیں یا متعلقہ ایڈریس پر بھیجنا ممکن نہ ہو  تو فقہ حنفی کی رُو سے حکم یہ ہے کہ ان کی  اور ان کے ورثاء کی موت کے یقین تک اس چیز کی حفاظت کی جائے البتہ اگر اس حکم پر عمل کرنا مشکل ہو اور ان  كسٹمر کے  اپنا سامان واپس لینے  کے لیے آنے کی امید بھی ختم ہوجائے تو اس چیز کو اصل مالک کی طرف سے  صدقہ کرنے کی بھی گنجائش ہے  ۔

2۔ اس صورت میں بھی یہی  حکم ہے کہ ان کے اور ان کے ورثاء کی   موت کے یقین تک انتظار کیا  جائے اور اگر  اس حکم پر عمل کرنا مشکل ہو  اور پارسل واپس لینے کی امید ختم ہوجائے تو ان  کسٹمر ز  کی طرف سے صدقہ کردیں۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں چونکہ مالک کا علم  ہوتا ہے اس لیے ان اشیاء کی حیثیت لقطہ کی نہیں بنے گی بلکہ ودیعت ہوگی  جس کا حنفیہ کے نزدیک حکم یہ ہے کہ اس کے مالک کی اور اس کے ورثاء کی موت  کے یقین تک انتظار کرنا ضروری ہے  البتہ مالکیہ کے نزدیک  جب اصل مالک کے آنے کی امید ختم ہوجائے تو اس چیز کو صدقہ  کیا جاسکتا ہے لہذا جہاں حنفیہ کے حکم پر  عمل کرنا مشکل ہو تو مالکیہ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہوگی ۔

المبسوط للسرخسی (11/129) میں ہے:

‌وأما ‌إذا ‌غاب ‌رب الوديعة، ولا يدرى: أحي هو أو ميت، فعليه أن يمسكها حتى يعلم بموته؛ لأنه التزم حفظها له، فعليه الوفاء بما التزم، كما كان رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يقول في العهود: وفاء لا غدر فيه. بخلاف اللقطة فإن مالكها غير معلوم عنده، فبعد التعريف: التصدق بها طريق لا يصالها إليه، وهنا مالكها معلوم، فطريق إيصالها الحفظ إلى أن يحضر المالك، أو يتبين موته فيطلب وارثه، ويدفعها إليه

ہندیہ(4/ 354) میں ہے:

‌غاب ‌المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته، كذا في الوجيز للكردري

المدونہ (4/445) میں ہے:

قلت: أرأيت ‌لو ‌أن ‌رجلا ‌استودعني وديعة ثم غاب، فلم أدر أحي هو أم ميت، ولا أعلم له موضعا ولا أعرف ورثته؟

قال: قال مالك: إذا طال زمانه فأيس منه تصدق بها عنه

شرح المختصر الکبیر للابہری (2/399) میں ہے:

قال: وإذا كانت الوديعة لا يقدر على صاحبها، انه إذا أيس منه تصدق بها عنه

فتاویٰ عثمانی (3/472) میں ہے:

سوال: زید گھڑی سازی کی دکان کرتا ہے، بعض صاحب گھڑیاں مرمت کے لیے دے کر واپس لینے نہیں آتے اور نہ اُمید ہے کہ وہ کبھی واپس آ کر لے جائیں گے، اور پڑے ہوئے تقریباً دو تین سال تک ہو چکے ہیں، باوجود حفاظت سے ہونے کے زنگ آلود ہو کر خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا زید اُن کے بدلے میں رقم خیرات کر کے اپنی ملک بنا سکتا ہے یا نہیں؟

 جواب: صورتِ مذکورہ میں زید کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ گھڑیوں کی قیمت خیرات کر کے اپنی ملک بنا لے، بلکہ تمام عمر ممکن حد تک اُن کی حفاظت کرنی چاہیے، تاوقتیکہ اصل مالک اُسے لے جائے، یا اُس کی طرف سے کوئی ہدایت موصول ہو، یا اُس کی موت کا علم ہو جائے، تو اُس کے ورثا کے سپرد کر دیا جائے، کیونکہ یہ گھڑیاں زید کے پاس بطور امانت ہیں، اور امانت کو لقطہ کی طرح صدقہ نہیں کیا جا سکتا۔

دليل الصغرى في القول الهندية، وحكم الأجير المشترك أن ما هلك في يده من غير صنعه، فلا ضمان عليه في قول أبي حنيفة.(عالمگیریة)

 ودليل الكبرى في قوله غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته، يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته كذا في الوجيز الكردري. ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة كذا في الفتاوى العتابية.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved