- فتوی نمبر: 35-281
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے بھائیوں کی مشترکہ رقم سے اپنے لیے موبائل خرید لیا اور غیر آدمی نے مذکورہ شخص کو مضاربت کے لیے کچھ رقم دے دی اور اس نے اسی موبائل کے ذریعے یعنی جو مشترکہ پیسوں سے خریدا تھا مضاربت کے پیسوں پر کاروبار یعنی تجارت کی اور پیسے کمائے۔ کیا اس مضاربت کی کمائی میں سب بھائی شریک ہیں؟
وضاحت مطلوب ہے:موبائل کے ذریعے کاروبار کا کیا مطلب ہے؟ کیا صرف رابطے کے لیے موبائل استعمال کیا؟
جواب وضاحت: جی، اسی موبائل کے ذریعے باہر ملک سے رابطہ کرکے تجارت کے لیے کوئی چیز منگوائی۔
نوٹ: سائل کا خاندانی نظام مشترکہ کھاتے والا نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں صرف مذکورہ موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے باقی بھائی کمائی میں شریک نہ ہوں گے کیونکہ مذکورہ صورت میں نفع میں شریک ہونے کی کوئی شرعی بنیاد نہیں پائی جا رہی تاہم اگر مذکورہ شخص نے مشترکہ رقم دیگر شرکاء کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہو تو ان کے حصے کی رقم سے موبائل خریدنا اور اسے ذاتی یا کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں اور اس گناہ کا اثر اس کے اس موبائل کے ذریعے کی گئی کمائی میں بھی ہوگا لہذا ایسی صورت میں مذکورہ شخص پر لازم ہے کہ وہ بھائیوں کے حصے کی رقم واپس کرے یا ان سے اجازت لے۔
مشکوۃ المصابیح (رقم الحديث: 4925) میں ہے:
وإن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه
ہندیہ (2/301) میں ہے:
ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه
بدائع الصنائع (6/62) میں ہے:
والأصل أن الربح إنما يستحق عندنا إما بالمال وإما بالعمل وإما بالضمان، أما ثبوت الاستحقاق بالمال فظاهر؛ لأن الربح نماء رأس المال فيكون لمالكه، ولهذا استحق رب المال الربح في المضاربة وأما بالعمل، فإن المضارب يستحق الربح بعمله فكذا الشريك.
وأما بالضمان فإن المال إذا صار مضمونا على المضارب يستحق جميع الربح، ويكون ذلك بمقابلة الضمان خراجا بضمان بقول النبي – عليه الصلاة والسلام – «الخراج بالضمان»
مسائل بہشتی زیور (2/293) میں ہے:
ایک آدمی مرگیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا تو اس کا سارا مال سب حقداروں کی شرکت میں ہے، جب تک سب سے اجازت نہ لے لے تب تک کوئی اس کو اپنے کا م میں نہیں لاسکتا۔ اگر لائے گا اور نفع اٹھائے گا تو گناہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
