• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مشترکہ زمین کی تقسیم کا مطالبہ کرنا

استفتاء

مفتی صاحب،زمین کی مشترکہ ملکیت کا کیا حکم ہے جہاں ایک سے زیادہ مالکان کو کل حجم اور ان کی ملکیت کا فیصد معلوم ہو لیکن ان کے لیے مختص کردہ مخصوص حصہ نہ ہو ؟اگر ایک مالک حد بندی کی درخواست کرتا ہے لیکن دوسرے متفق نہیں ہو سکتے ہیں تو تنازعات کو کیسے حل کیا جائے خاص طور پر اگر کچھ مالکان اپنا حصہ بیچنا یا استعمال کرنا چاہتے ہوں؟

وضاحت مطلوب ہے :زمین کتنی ہے؟اس پر مکان بنا  ہوا ہے یا دکان یا پھر خالی پلاٹ ہے؟کل شرکاء کتنے ہیں اور زمین کا رقبہ کتنا ہے؟

جواب وضاحت:صرف پلاٹ ہے ۔کل شرکاء 5 ہیں۔ ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق جگہ چاہیئے کسی کو شمالی حصہ کسی کو جنوبی۔زمین کا رقبہ پانچ بیگھ ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ مشترکہ زمین کو تقسیم کرنے کے باوجود تمام شرکاء اپنے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لیے ایک شریک کے مطالبے پر بھی مشترکہ زمین  تقسیم کی جائے گی۔

تبیین الحقائق(5/268) میں ہے:

قال رحمه الله (‌وقسم ‌بطلب أحدهم لو انتفع كل بنصيبه) لأن فيها تكميل المنفعة إذا كان كل واحد منهم ينتفع بنصيبه بعد القسمة فكانت القسمة حقا لهم فوجب على القاضي إجابتهم.قال رحمه الله (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) وذلك مثل البئر والرحا والحائط والحمام؛ لأن القسمة لتكميل المنفعة وفي هذا تفويتها فيعود على موضوعه بالنقض.

امداد الفتاوی (3/519) میں ہے:

منجملہ شرائط تقسیم کے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بعد تقسیم کے اُس شئے مشترک کی منفعت مقصودہ فوت نہ ہو، پس اس صورت میں صحن کی تقسیم تو جائز ہے، کیونکہ بعدتقسیم بھی منفعت صحن کی باقی رہتی ہے، اور پائخانہ اور زینہ اور دروازہ کی تقسیم جائز نہیں کیونکہ بعد تقسیم ان کی منفعت باقی نہیں رہ سکتی۔وشرطها عدم فوت المنفعة بالقسمة، ولذا لا یقسم نحو حائط وحمام درمختار وقال الشارح تحت قوله: المنفعة: أي المعهودة، وهي ماکانت قبل القسمة إذ الحمام بعدها ینتفع به کنحو ربط الدواب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved