• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مطلقہ ثلاثہ کادوسرے شوہر سے طلاق کے بعد پہلے شوہرسے نکاح کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  ایک عورت ہے اس کو پہلے شوہر نے طلاق دے دی تھی اس کے بچے بھی ہیں ،چار سال کے بعد اس نے ایک دوسرے آدمی سے نکاح کیا اور  دس ماہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے لیکن عورت دوسرے شوہر کے ساتھ مطمئن نہیں تھی اور دوسرے شوہر نے خود ہی کہہ دیا کہ اگر تم پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو تو میں تمہارے بچوں کی خاطر تمہیں چھوڑ دوں گا، وہ عورت اس بات پر راضی ہوگئی تو مرد نے اس کو طلاق دے دی جس کے بعد تین حیض گزرچکے ہیں تو کیا اب پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے؟

وضاحت مطلوب ہے کہ :

(۱)سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟

(۲)میاں بیوی کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

(۳)دوسرے نکاح کےبعد  دخول ہوا تھا یا نہیں؟

جواب وضاحت:

(۲+۱)میرا اپنا سوال ہےاور یہ نمبر بھی میرا اپنا ہے۔

(۳) جی ہوا تھا، دس ماہ نکاح رہاتھا۔

دوسرے شوہر کا بیان: جی بالکل ایسا ہی ہوا ہے، میں نے خود اسے تین طلاقیں  دی ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ دوسرے شوہرنے دخول کے بعد طلاق دی ہے اور طلاق کے بعد 3حیض  گزر چکے ہیں لہذا مذکورہ عورت اپنے پہلے شوہر سےدوبارہ  نکاح کر سکتی ہے۔

ہدایہ (409/2)میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة والثنتان في حق الأمة كالثلاث في حق الحرة لأن الرق منصف لحل المحلية على ما عرف ثم الغاية نكاح الزوج مطلقا والزوجية المطلقة إنما ثبتت بنكاح صحيح وشرط الدخول ثبت بإشارة النص وهو أن يحمل ا لنكاح على الوطء حملا للكلام على الإفادة دون الإعادة إذ العقد استفيد بإطلاق اسم الزوج أو يزاد على النص بالحديث المشهور وهو قوله عليه الصلاة والسلام لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر روي بروايات ولا خلاف لأحد فيه سوى سعيد بن المسيب رضي الله عنه وقوله غير معتبر حتى لو قضى به القاضي لا ينفذ والشرط الإيلاج دون الإنزال لأنه كمال ومبالغة فيه والكمال قيد زائد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved