• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مضاربت میں نقصان میں شریک ہوئے بغیر متعین نفع لینا

استفتاء

1۔گذارش ہے کہ  ہمارے خاندان کی ایک خاتون ہیں جنہوں نے چند لاکھ روپے کی رقم اپنے ایک بھائی کے کاروبار(بجلی کے سامان کی ایک بہت بڑی  دکان شاہ عالمی میں ہے اور دیگر سامان ِ بجلی کے علاوہ بہت بڑا کاروبار بجلی کے پنکھوں کا  بھی ہےاس )  میں   سرمایہ کاری  کر رکھی ہے جس کے عوض وہ ان کو ہر ماہ چند  ہزار روپے بطور نفع کے دیتے ہیں ، واضح  ہو کہ یہ سرمایہ کاری انہوں نے بہن کے اصرار پر کی ہے ورنہ ان کو اس چھوٹی سی سرمایہ  کاری کی کوئی حاجت نہیں ہے لہٰذا پنکھوں کے کاروبار میں  اس قلیل سرمائے کی ایک  اندازے کے مطابق جتنی  سرکولیشن ممکن ہے انہوں نے  اس کے مطابق نفع کا تعین کرلیا ہے جو  کہ وہ ہر ماہ اپنی بہن کو بھیج دیتے ہیں لیکن اس خاتون کے بیٹے کا کہنا ہے کہ یہ رقم فکس  یعنی مقرر ہونے کی بناء پر سود ہے۔ واضح رہے کہ نفع کی تعیین جنس کی خرید وفروخت کے اعتبار سے ہے گوکہ ایک اندازے سے ہے اور یہ سرمایہ کاری کسی سودی کاروبار کرنے والے معروف اداروں مثلا بینک  بیمہ یا مراکز قومی بچت وغیرہ میں  نہیں ہے لہٰذا آپ سے استفسار  یہ ہے کہ آیا یہ  رقم سود ہے؟

2۔ اس خاتون کا ایک بیٹا ان کو ہر ماہ ان کی ذاتی ضروریات مثلا دوائیوں  اور دیگر مختلف نسوانی ضروریات کے لیے ایک معقول  رقم دیتا ہے جس میں ذاتی ضروری اخراجات کے بعد دو اڑھائی ہزار روپے بچ جاتے ہیں اس کے علاوہ  اس خاتون کی بہنیں، بھائی نقد ہدیہ ، تحفہ وغیرہ بھی ایک دوسرے کو دیتے  رہتے ہیں اس ضمن میں ان کے بیٹے کامؤقف یہ ہے کہ ان کو جو رقم سود کی آتی ہے اس کی وجہ سے یہ رقم بھی  ناجائز بن جاتی ہے حالانکہ  اس میں ان کے بیٹے کی دی ہوئی ماہانہ رقم بھی شامل ہے لہٰذا مذکورہ  خاتون اگر  بیٹے کو پیسے دیکر پھل ، مٹھائی وغیرہ منگواتی ہے  تو اس  کو نہ وہ خود کھاتا ہے بلکہ  اپنے بچوں  (جو 5 سال تا 11 سال کے تین بچے  ہیں) کو بھی منع کرتا ہے اس ضمن میں  بیٹے سے یہ کہا گیا کہ آپ جو رقم ماہانہ والدہ کو دیتے ہیں اس میں سے دو  ، اڑھائی ہزار روپے اپنے پاس رکھ لیں اور حسبِ فرمائش والدہ کو ان کی مطلوبہ چیزیں لادیا کریں تاکہ بشمول بچوں کے گھر کے سارے افراد یہ سب کچھ استعمال  کریں مگر وہ اس پر بھی تیار نہیں لہٰذا آپ سے استفسار یہ ہے کہ اندریں حالات  بیٹے کا اپنے دیے ہوئے پیسوں سے لایا گیا سامان خورد ونوش سب کے لیے استعمال کرنا جائز ہے  یا ناجائز؟

وضاحت مطلوب ہے کہ:(1) اگر کاروبار میں نقصان ہوا تو کیا اس خاتون کا سرمایہ بھی ضائع ہوگا یا پھر اس کا سرمایہ محفوظ رہے گا؟(۲)کاروبار سے آنے والی آمدن ، بیٹے کے دیے ہوئے روپوں سے اور دیگر رشتے داروں سے ملنے والے نقد ہدیوں سے کم ہے یا زیادہ ہے ؟ (3) مذکورہ خاتون اپنی تمام تر آمدن کو الگ الگ رکھتی ہے یا پھر ان کو ایک ساتھ رکھتی ہے؟

جوابِ وضاحت: (۱)نقصان کی صورت میں خاتون کا سرمایہ ضائع نہ ہو گا۔(۲)کاروبار سے آنے والی آمدن بیٹے کی دی گئی ماہانہ رقم اور دیگر رشتہ داروں سے ملنے والی نقدی سے کافی کم  ہے یعنی بمشکل ایک تہائی ہے۔(۳) مذکورہ خاتون ان تینوں مدات میں وصول ہونے والی رقوم کو علیحدہ علیحدہ رکھتی ہے اور بیٹے کی دی ہوئی رقم اپنے میاں کے حوالے کرتی ہےجس سے وہ ابتدائی طور پر اس کی دوائی لاتے ہیں اور بقیہ رقم ان کے میاں کے پاس رہتی ہے اور جب کبھی وہ اپنی دیگرضروریات کے لیے بیٹے سے کہتی ہے تو بیٹے کو پیسے ان کے میاں ہی دیتے ہیں یعنی میاں کے پاس موجود رقم سے ہی منگواتی ہے۔

(۴) ہدایا وغیرہ کی رقم بالعموم جوابی ہدایا وغیرہ دینے پر ہی صرف ہوتی ہے اور دیگر مصارف پر بھی خرچ ہوتی ہےجیسے کوئی صدقہ خیرات یا زکوٰۃ وغیرہ پر ہوتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

۔مذکورہ صورت جائز نہیں ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سود ہے۔اور اگر مذکورہ خاتون کا بھائی فکس نفع ہی دینے کو تیار ہے اور حساب کتاب  میں دشواری محسوس کرتا ہے تو بہن بھائی مرابحہ کا معاملہ کرسکتے ہیں جس کی تفصیلات زبانی طور پر سمجھی جاسکتی ہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت   شرعی لحاظ سے مضاربت  کی نہیں بلکہ سود کی ہے اس لیے کہ مذکورہ صورت میں نہ تو رب المال کو حقیقی نفع کا فیصدی حصہ دیا جارہا ہے اور نہ ہی  رب المال کو کاروبار میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے حالانکہ   یہ دونوں (رب المال کو حقیقی نفع کا فیصدی حصہ دینا اور مضارب کی  کوتاہی کے بغیرہونے والے  نقصان کا ذمہ دار رب المال کو ٹھہرانا)مضاربت کی بنیادی شرائط ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت کی حقیقت قرض  کی ہے اور مذکورہ خاتون کو ملنے والا نفع قرض پر نفع ہے جو کہ سود ہے اور حرام ہے۔

2۔چونکہ مذکورہ  صورت میں خاتون ،سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے نفع کو دوسرے روپوں سے الگ رکھتی ہے اس لیے اگر مذکورہ خاتون ،اپنے  بیٹے کی طرف سے دی گئی حلال رقم سے کوئی چیز منگواتی ہے تو  وہ حرام نہیں ہے اور بیٹے کے لیے اس رقم سے آنے والے پھل اور مٹھائی کو خود استعمال کرنا یا اپنے بچوں کو کھلانا جائز ہے ۔

التنویر مع الدر (12/358)میں ہے:

(وشرطها ….وکون الربح بينهما شائعا ) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصىب كل منهما معلوما ) عند العقد.  ومن شروطها كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من راس المال او منه و من الربح فسدت

التنویر مع الدر (8/514) میں ہے:

(وما هلك من مال المضاربة يصرف الى الربح) لانه تبع (فان زاد الهالك على الربح لم يضمن ) ولو فاسدة من عمله لانه امين

حاشیہ ابن عابدین  میں ہے:

قوله (من عمله ) يعنى المسلط عليه عند التجار واما التعدي فيظهر انه يضمن . سائحانی و فی تكملة حاشية ابن عابدين

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved