• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نجاست والی جگہ خشک ہونے کے بعد اگر اس پر گیلی چیز رکھ دیں تو کیا وہ گیلی چیز ناپاک ہوجائے گی؟

استفتاء

ایک تکیے کے اوپر ایک چھوٹے لڑکے نے پیشاب کر دیا  پیشاب خشک ہو گیا تکیے کا اوپر والا کور تو  تبدیل کردیا گیا لیکن  تکیے کے اندر کا فوم دھویا نہیں پھر کچھ عرصہ کے بعد ایک عورت اپنے گیلے بال لے کر بے دھیانی میں اس تکیے کے اوپر لیٹ گئی  جس کی وجہ سے اس تکیے پر نمی کے اثرات آگئے اب کیا اس عورت کو اپنے تمام بال دوبارہ دھونے ہوں گے؟ کیا وہ ناپاک ہو گئے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں عورت کے بال ناپاک نہیں ہوئے لہذا دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں۔

توجیہ: اگر پاک تر چیز خشک نجس سے ملے تو جب تک پاک تر چیز کی اتنی تری ناپاک خشک میں نہ جائے جس سے ناپاک چیز تر ہوجائے اور اس کی تری پاک چیز کو بھی لگ جائے تو اس وقت تک  پاک تر چیز  ناپاک نہیں ہوگی۔ مذکورہ صورت میں بھی  چونکہ  عورت کے بال اتنے گیلے نہیں کہ جس کی وجہ سے تکیہ کے اوپر کا کور اور فوم اتنا تر ہوجائے کہ اس کی تری عورت کے بالوں کو لگ کر عورت کے بالوں کو ناپاک کردے اس لیے عورت کے بال ناپاک نہیں  ہوئے۔

حلبی کبیر (ص:175) میں ہے:

وكذا [لا يتنجس، از ناقل] لو نشر الثوب المبلول الطاهر على مكان يابس نجس فابتل منه لكن لم يظهر عين النجاسة في الثوب (و) كذا (ان نام على فراش نجس فعرق وابتل الفراش من عرقه) فانه (ان لم يصب بلل الفراش) بعد ابتلاله بالعرق (جسده لا يتنجس) جسده (وكذا اذا غسل رجليه ومشى علی لبد نجس) فابتل اللبد لا تتنجس رجله.

شامی (6/733) میں ہے:

‌إذا ‌نشر ‌المبلول على حبل نجس هو يابس لا يتنجس الثوب لما ذكرنا من المعنى. وقال قاضي خان في فتاواه: إذا نام الرجل على فراش فأصابه مني ويبس وعرق الرجل وابتل الفراش من عرقه إن لم يظهر أثر البلل في بدنه لا يتنجس جسده، وإن كان العرق كثيرا حتى ابتل الفراش ثم أصاب بلل الفراش جسده وظهر أثره في جسده يتنجس بدنه

احسن الفتاویٰ (2/102) میں ہے:

سوال: اگر قالین پر کچھ دیر نجاست، پیشاب وغیرہ لگ کر خشک ہوگیا اور بعد میں اس جگہ  پر گیلا پاؤں رکھ دیا تو کیا پاؤں بغیر پاک کیے نماز ہوجائے گی ؟

جواب: اگر پاؤں اتنا گیلا ہو کہ اس سے قالین خوب تر ہوجائے اور اس پر اتنی  تری آجائے کہ اس پر کوئی دوسری چیز رکھی جائے تو اس کو بھی لگ جائے تو پاؤں ناپاک ہوجائے گا ۔

امداد الفتاویٰ (1/111) میں ہے:

سوال: اگر ایک کپڑا پاک کر کے نچوڑا اور وہ کپڑا تر پاک شده کسی ناپاک کپڑے یا بوریے  پر یا زمین پر رکھا جاوے تو وہ تر کپڑا پاک کیا ہوا ناپاک ہوگیا یا نہیں ؟

جواب : في الدر المختار لف طاهر في نجس مبتل بماء ان بحيث لو عصر قطر تنجس والالا ولولف فى مبتل بنحو بول ان ظهر نداوته او اثره تنجس والا لا.

اس سے معلوم ہوا کہ وہ ناپاک کپڑا بوریا وغیرہ اگر عین  کسی نجاست سے ناپاک ہوا ہے تو اس کے اثر کے آجانے سے یہ پاک کپڑا ناپاک ہو جائے گا ورنہ نہیں۔ اور اگر وہ عین نجاست سے ناپاک نہیں ہوا بلکہ ناپاک پانی وغیرہ سے ناپاک ہوا تھا تو اگر یہ کپڑا نچوڑنے سے نچڑ سکتا ہے توناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔

اصلاح از  تصحیح الاغلاط میں آگے آخر میں لکھا ہے :

اور تقریر جواب یہ ہونی چاہیے کہ اگر بوریاوغیرہ خشک ہیں جیسا کہ ظاہر سوال سے مفہوم ہوتا ہے تب یہ جواب ہے کہ اگر بوریا وغیرہ کپڑے سے تر نہیں ہوا تب تو پاک ہے اور اگر تر ہوگیا ہے تو اگر اتنا تر ہوگیا ہے کہ اسکی تری کپڑے میں نہیں لگی تب بھی پاک ہے اور اگر اتنا   تر ہوگیا ہے کہ اسکی تری کپڑے میں لگ گئی ہے تب ناپاک ہے اور اگر بوریا وغیرہ بھی تر ہے تو بہر حال ناپاک ہے۔

مسائل بہشتی زیور (1/118) میں ہے:

نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ سے وہ کپڑا نم ہوگیا تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اس کا کپڑا اور بدن ناپاک نہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved