- فتوی نمبر: 12-240
- تاریخ: 08 جولائی 2018
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کے وقتوں کا بیان
استفتاء
مفتی صاحب!
بندہ اس وقت جماعت میں انکاریج الاسکا میں موجود ہے یہاں ایک بڑی مسجد موجود ہے جو تقریباً تین ملین کی لاگت سے چند سال پہلے وجود میں آئی ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ دن اس وقت بیس گھنٹے کا ہے ساڑھے گیارہ بجے کے قریب سورج غروب ہو رہا ہے اور ساڑھے چار بجے صبح طلوع ہو رہا ہے۔ یہاں سردیوں میں تین مہینے بیس گھنٹے رات رہتی ہے اور دن چار گھنٹے کا ہوتا ہے اور گرمیوں میں الٹ ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو الجزائر کے ایک شیخ نے فتوی دے دیا تھا کہ پورا سال مکہ کی نمازوں کے اوقات پر عمل کریں اور یہ حضرات کئی سال سے اس بڑی مسجد میں اس پر عمل پیرا ہیں ۔
اب صورت حال یہ ہے کہ فجر ساڑھے چار بجے جو عین طلوع کا وقت ہے، ظہر اور جمعہ ایک بجے جو کہ زوال سے پہلے ہے اور عصر، مغرب اور عشاء چار، سات اور نو بجے بالترتیب ہے جو کہ غروب سے پہلے ہے ۔
۱۔ جاننا یہ تھا کہ کیا کسی فقہی مذہب میں اس کی گنجائش ہے اور اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟
۲، مغرب اور فجر کے درمیان اچھی خاصی روشنی رہتی ہے سورج سطح سمندر سے چار ڈگری نیچے جاکر واپس اوپر آجاتا ہے ۔ شفق احمر غائب ہی نہیں ہوتی، تو عشاء اور فجر کس وقت پڑھی جائے؟
یہ صاحب تبلیغی جماعت میں اس علاقہ میں گئے ہوئے ہیں فوری جواب مطلوب ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ظہر، عصر اور مغرب تو اپنے اپنے وقت پر پڑھنا لازمی ہے کیونکہ ان کے اوقات حقیقتاً پائے جارہے ہیں ۔ البتہ عشاء اور فجر کا وقت نہیں پایا جاتا کیونکہ شفق احمر کے غروب ہوئے بغیر طلوع شمس ہو جاتا ہے نہ شفق ابیض پائی گئی اور نہ صبح صادق۔ اس لیے ان نمازوں کے بارے میں سوال بجا ہے کہ کب پڑھی جائیں تو اس بابت راجح بات یہ ہے کہ اسی علاقے کا وہ آخری دن جس میں شفق ابیض اور صبح صادق پائی گئی اس کو معیار قرار دیا جائے۔ اور اس حساب سے یہ دونوں نمازیں پڑھی جائیں ۔گویا دونوں نمازیں شفق احمر ہی میں پڑھی جائیں گی لیکن اس فرق کے ساتھ کہ نصف رات سے پہلے کی شفق احمر عشاء کا وقت ہو گی اور نصف کے بعد فجر کا وقت شمار ہو گا۔
مکہ مکرمہ کے اوقات کو ان علاقوں کے لیے معیار قرار دینا درست نہیں ۔(ماخوذ از: مسائل بہشتی زیور: ص:147، و احسن الفتاویٰ)
© Copyright 2024, All Rights Reserved