استفتاء
مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال ہے کہ آگے ایک مسئلہ یہ تھا کہ پیشاب کے قطرے آتے تھے ابھی بھی کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے اور اس کا حل حدیث پاک سے یہ ملا کہ ہر نماز کے لیے وضو کر لولیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں پیٹ میں ہوا چلنے لگ جاتی ہے اور سجدہ کرتے وقت بہت مشکل ہوتی ہےکبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے اور کبھی سب شک ہوتا ہے، اور ہوا والا معاملہ کافی مہینے یا سال کے اوپر ہو گیا ہےاور جب وضو کے لیے جاتا ہوں اس وقت بھی بہت مشکل ہوتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ مسئلہ آپ کا حقیقی نہیں، بلکہ آپ کے وہم کا ہے، جس کی علامت یہ ہے کہ آپ کو صرف نماز کے اندر ہی یہ مسئلہ پیش آتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ایک دفعہ آپ وضو کرلیں پھر اسی وضو سے نماز پوری کر لیا کریں۔ اگر درمیان میں آپ کو ہوا خارج ہونا محسوس ہو تو اس کی طرف دھیان نہ دیں۔ دوسرا آپ اپنا مکمل دھیان نماز کی طرف رکھیں کہ میں قراءت کر رہا ہوں اور قراءت میں فلاں سورت پڑھ رہا ہوں، اب میں رکوع میں ہوں اور میں تسبیح پڑھ رہا ہوں وغیرہ۔ جب آپ کا دھیان نماز کی طرف ہوگا تو آپ کا یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔
صحیح بخاری (رقم الحدیث: 1951) میں ہے:
عن عباد بن تميم، عن عمه قال: «شكي إلى النبي صلى الله عليه وسلم الرجل يجد في الصلاة شيئا، أيقطع الصلاة؟ قال: لا، حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا»
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بندہ کے متعلق پوچھا گیا جو نماز میں کوئی وسوسہ محسوس کرتا ہے کیا وہ نماز کو توڑ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز نہ توڑے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا ہوا نکلنے کو محسوس کرے۔
عمدۃ القاری (11/172) میں ہے:
حدثنا أبو نعيم قال حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عباد بن تميم عن عمه قال شكي إلى النبي صلى الله عليه وسلم الرجل يجد في الصلاة شيئا أيقطع الصلاة قال لا حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا.
مطابقته للترجمة من حيث إنه يدل على أن الشخص إذا كان في شيء بيقين ثم عرضت له وسوسة لا يرى تلك الوسوسة من الشبهات التي ترفع حكم ذلك الشيء، ألا يرى أن البخاري ترجم على هذا الحديث في كتاب الوضوء بقوله: لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن، ثم أخرج هذا الحديث عن علي عن سفيان عن الزهري عن سعيد بن المسيب وعن عباد بن تميم عن عمه أنه شكى … الحديث، وقد مر الكلام فيه هناك. وأبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وابن عيينة هو سفيان، وعباد على وزن فعال بالتشديد وعمه هو عبد الله بن زيد بن عاصم المازني. قوله: (شيئا) أي: وسوسة في بطلان الوضوء، وحاصله أن يقين الطهارة لا يزول بالشك، بل يزول بيقين الحدث
شامی (1/306) میں ہے:
فإن الشك والاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لا يزول بالشك
شامی (1/292) میں ہے:
(و) ينقضه (دم) مائع من جوف أو فم (غلب على بزاق) حكما للغالب (أو ساواه) احتياطا
(قوله: احتياطا) أي لاحتمال السيلان وعدمه فرجح الوجود احتياطا، بخلاف ما إذا شك في الحدث لأنه لم يوجد إلا مجرد الشك ولا عبرة له مع اليقين بحر عن المحيط
شمائل کبریٰ (6/546) میں ہے:
عموما ً شیطان وضو کے ٹوٹنے کاوسوسہ ڈال کر نماز خراب کرتا رہتا ہے بسا اوقات معلوم ہوتا ہے کہ ہوا نکل گئی یا قطرہ ٹپک گیا سو محض اس وسوسے پر دھیان نہ دے کر نماز نہ توڑے اور نہ خراب کرے ہاں علامتوں کے ذریعے یقین ہو جائے جسم کی ہیئت سے ہوا نکلنے کا علم اور احساس ہو جائے تب اس کا اعتبار کریں ایسا بھی نہ ہو کہ علامتوں سے احساس اور علم ہو گیا پھر وسوسہ قرار دے کر پڑھتا رہا کہ یہ حرام ہے خیال رہے کہ وضو کا ہونا یقینی ہو تو محض شک اور وہم سے ٹوٹنے کا حکم نہیں ہوگا۔
خطبات حکیم الامت (10/55) میں ہے:
دفع وساوس کے طریق
……….. سو اس کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ صورت ہے کہ براہ راست وساوس کو ہٹا دے کہ جب کوئی وسوسہ آئے کوشش کر کے اس کو اپنے خیال سے دور کردے ……… دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بواسطہ ہٹائے یہ عمدہ تدبیر ہے…… اب سنیے بواسطہ دفع یہ ہے کہ قلب میں کسی دوسری چیز کو لے آؤ دوسری چیز کے لانے سے اس کی طرف توجہ ہو جائے گی اور وسوسے کی طرف توجہ نہ رہے گی….. اب رہی بات کہ وہ کون سی چیز ہے جس کی طرف متوجہ ہو آیا پتھر کی طرف یا اور کسی چیز کی طرف ہو اس کی تعیین میں ضرورت ہے دلیل شرعی کی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مقبلا عليهما بقلبه کہ قلب کو متوجہ کرے دونوں رکعتوں یعنی نماز کی طرف اب نماز کی طرف متوجہ ہونے کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ پوری نماز کی طرف ایک دم سے متوجہ ہو کیونکہ نماز مرکب ہے مختلف اجزاء سے پس اس کی طرف توجہ اس طرح ہوگی کہ اس کے تمام اجزاء کی طرف توجہ ہو مگر اس میں یہ خرابی ہے کہ بہت سے اجزاء کی طرف توجہ کرنے سے قلب میں تشویش ہوگی اس لیے یہ صورت تو ٹھیک نہیں ایک صورت یہ ہے کہ جس جزو میں مشغول ہو اسی کی طرف توجہ رکھے اس کا طریقہ ایک بزرگ نے بتلایا ہے وہ یہ ہے کہ مثلا سبحانک اللهم یاد سے مت پڑھو کہ رٹا ہوا ہونے کی وجہ سے زبان سے خود نکلتا چلا جائے بلکہ ہر ہر جزو سوچ کر پڑھو کہ اب سبحانک اللهم کہہ رہا ہوں اب تبارک اسمک پڑھتا ہوں اب لا اله نکالتا ہوں اب بسم اللہ اب الحمدللہ علی ہذا ہر ہر لفظ کو ارادے سے ادا کرو جب قلب افکار کی طرف متوجہ رہے گا تو ساوس کی طرف توجہ نہ رہے گی کیونکہ قاعدہ مسلمہ ہے: النفس لا تتوجه الی شیئین فی آن واحد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved