- فتوی نمبر: 26-182
- تاریخ: 12 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مذکورہ صورت کی وراثت کے بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں؟
ہمارے نانا ابو کا انتقال ہوا اور ان کے وارثان میں 2 بیٹے اور 2بیٹیاں (ہمارے دو ماموں، ایک خالہ اور ہماری والدہ)تھیں،جبکہ نانا کی وفات سےقبل نانا کے والدین اور ہماری نانی کا انتقال ہو چکا تھا۔پھر اس کے بعد ہمارے ایک ماموں فوت ہو گئے جن کے وارثان میں ان کی بیوی ، 2بیٹیاں ،1بھائی (دوسرے ماموں)اور دو بہنیں (ایک خالہ اور ہماری والدہ)تھیں۔ اس کے بعد ہماری خالہ کا انتقال ہو گیا جن کے 6 بیٹے اور 1 بیٹی ہے جبکہ ہمارے خالو ان خالہ کی وفات سے قبل ہی وفات پا گئے تھے۔ اور پھر اب آخر میں ہماری مامی (یعنی مرحوم ماموں کی بیوی) کا انتقال ہوا ہے اور ان کے وارثان میں 2 بیٹیاں اور 3بھائی اور 1 بہن شامل ہیں۔
ان ہمارے نانا کے ترکہ کی تقسیم کیسے ہو گی؟ وارثان کون ہوں گے اور ان کے کیا حصے ہوں گے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے نانا ابو کے ترکہ کے کل 26208 حصے کیے جائیں گے جن میں سے نانا کے بیٹے (سائل کے ماموں) کو 9646 حصے (تقریبا 36.805 فیصد)اور نانا کی بیٹی (سائل کی والدہ )کو 4823 حصے (تقریبا 18.40 فیصد)،اور آپ کے مرحوم ماموں کی ہر بیٹی کو 3276 حصے (12.5فیصد)، جبکہ مامی کے بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 104 حصے (تقریبا 0.39فیصد)،اور بہن کو 52 حصے (تقریبا0.19فیصد)،اور خالہ کے 6بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 742(تقریبا 2.83فیصد) اور خالہ کی بیٹی کو 371 حصے (تقریبا 1.41فیصد)ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved