- فتوی نمبر: 36-275
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
میرا نام فاطمہ ہے اور میں موضع *** کی رہائشی ہوں۔ میری شادی زید سے” *** ” میں ہوئی تھی، اور ہمارے چار بچے ہیں۔ ایک مرتبہ میرے شوہر شدید نشے کی حالت میں گھر آئے۔ انہیں ایک اور لڑکا گھر تک چھوڑنے کے لیے آیا تھا۔ میرے شوہر کی حالت اس وقت بالکل درست نہیں تھی اور وہ اپنے ہوش و حواس میں محسوس نہیں ہو رہے تھے۔الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے، بہت بیہودہ گالیاں نکال رہے تھے جو وہ عام طور پر نہیں نکالتے ایک ہی جملہ مسلسل بولے جا رہے تھے کہ “اور روٹی نہ لگواؤ” یہ جملہ انہوں نے پچیس تیس مرتبہ بولا حالانکہ روٹی کی بات اس وقت نہیں ہو رہی تھی گھر آنے کے بعد وہ بار بار مجھ سے یہی کہتے رہے کہ ” میرے گھر سے نکل جاؤ “اس بات پر ہمارے درمیان بحث و تکرار شروع ہو گئی۔ اس دوران بھی ان کی حالت بہت خراب تھی اور وہ نشے کی وجہ سے بالکل بے قابو اور غیر معمولی حالت میں تھے۔ اس بحث و تکرار کے دوران میرے شوہر نے مجھے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے کہ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں” اس وقت ان کی حالت ایسی تھی کہ وہ بظاہر اپنے مکمل ہوش و حواس میں نہیں تھے اور ان کی کیفیت مجنون یا پاگل شخص جیسی تھی۔ براہ کرم اس واقعے کی مکمل کیفیت اور میرے شوہر کی اس وقت کی ذہنی و جسمانی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے فتوی عطا فرمائیں کہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ ہمارے چھوٹے بچے ہیں ہم اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔
شوہر کا بیان : شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ میں نے شراب پی رکھی تھی، شراب پینے کے بعد کیا ہوا مجھے یاد نہیں مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ کیا کہہ رہا ہوں ، میں نے دوستوں کیساتھ ڈیرے پر شراب پی تھی اور میرے ہوش وحواس ختم ہوگئے جب ہوش آیا تو گھر پر تھا اور بیوی نے بتایا کہ اس طرح آپ نے طلاق کے الفاظ بولے تھے اس وقت مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ کیا ہوا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں راجح اور اکثر علماء کے قول کے مطابق تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا میاں بیوی کو اسی قول پر عمل کرنا چاہیے تاہم مرجوح اور بعض علماء کے قول کے مطابق مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی لہٰذا اگر میاں بیوی کے اکٹھے رہنے کی مجبوری ہو تو اس قول پر بھی عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
توجیہ: ناجائز نشے کی حالت میں دی گئی طلاق جمہور کے نزدیک زجراً واقع ہو جاتی ہے خواہ نشے کی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو اور بعض اہل علم جیسے امام طحاوی ؒ، امام کرخی ؒ وغیرہ کے نزدیک نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی جبکہ کلام میں اختلاط و ہذیان غالب ہو۔ مذکورہ صورت میں بھی چونکہ شوہر کے کلام میں اختلاط وہذیان غالب تھا لہذا ان بعض حضرات کے قول کے مطابق کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔ہمارے زمانے میں نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کو واقع ماننے سے اکثر زد بیوی بچوں پر ہی پڑتی ہے اور نشہ کا عادی شخص کوئی زجر محسوس نہیں کرتا، لہذا بیوی بچوں کی مجبوری کی وجہ سے ان حضرات کے قول پر عمل کیا جا سکتا ہے، جو نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کو واقع نہیں مانتے۔
فتح القدیر (3/472) میں ہے:
في مسئلة الطلاق خلاف عال بين التابعين و من بعدهم فقال بوقوعه من التابعين سعيد بن المسيب و عطاء و الحسن البصري و إبراهيم النخعي و ابن سيرين و مجاهد و به قال مالك و الثوري و الأوزاعي و الشافعي في الأصح و أحمد في رواية و قال بعدم وقوعه القاسم بن محمد و ربيعة و الليث و أبو ثور و زفر و هو مختار الكرخي و الطحاوي و محمد بن سلمة من مشائخنا
بدائع الصنائع (4/267) میں ہے:
وأما السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعا حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنهم وعن عثمان رضي الله عنه أنه لا يقع طلاقه وبه أخذ الطحاوي والكرخي وهو أحد قولي الشافعي ……….. بخلاف ما إذا زال بالبنج والدواء لأنه ما زال بسبب هو معصية
شامی (4/428) میں ہے:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا …………. (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري واختلف التصحيح فيمن سكر مكرها أو مضطرا، ونعم لو زال عقله بالصداع أو بمباح لم يقع …………. ولم يوقع الشافعي طلاق السكران واختاره الطحاوي والكرخي، وفي التتارخانية عن التفريق: والفتوى عليه
(قوله أو سكران) السكر: سرور يزيل العقل فلا يعرف به السماء من الأرض. وقال: بل يغلب على العقل فيهذي في كلامه، ورجحوا قولهما في الطهارة والأيمان والحدود. وفي شرح بكر: السكر الذي تصح به التصرفات أن يصير بحال يستحسن ما يستقبحه الناس وبالعكس. لكنه يعرف الرجل من المرأة قال في البحر: والمعتمد في المذهب الأول نهر. قلت: لكن صرح المحقق ابن الهمام في التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الإمام إنما هو السكر الموجب للحد، لأنه لو ميز بين الأرض والسماء كان في سكره نقصان وهو شبهة العدم فيندرئ به الحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء، ومال أكثر المشايخ إلى قولهما، وهو قول الأئمة الثلاثة واختاروه للفتوى لأنه المتعارف، وتأيد بقول علي – رضي الله عنه – إذا سكر هذى رواه مالك والشافعي
(قوله أو بمباح) كما إذا سكر من ورق الرمان فإنه لا يقع طلاقه ولا عتاقه ونقل الإجماع على ذلك صاحب التهذيب كذا في الهندية
(قوله واختاره الطحاوي والكرخي) وكذا محمد بن سلمة، وهو قول زفر كما أفاده في الفتح
شامی (1/74) میں ہے:
مذهب الحنفية المنع عن المرجوح حتی لنفسه لكون المرجوح صار منسوخاً و قيده البيري بالعاصي أي الذي لا رأي له يعرف به معنی النصوص حيث قال: هل يجوز للإنسان العمل بالضعيف من الرواية في حق نفسه نعم إذا كان له رأي، أما إذا كان عامياً فلم أره، لكن مقتضی تقييده بذي الرأي أنه لا يجوز للعامي ذلك، قال في خزانة الروايات: العالم الذي يعرف معنی النصوص و الأخبار و هو من أهل الدراية يجوز له أن يعمل عليها و إن كان مخالفاً لمذهبه، و قد ذكر في حيض البحر أقوالاً ضعيفة في بحث ألوان الدماء ثم قال: و في المعراج عن فخر الأئمة لو أفتی مفت بشئ من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلباً للتيسير كان حسناً
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved