- فتوی نمبر: 35-365
- تاریخ: 13 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
17اپریل کوپہلی 2 طلاقیں اکٹھی دی تھیں، ایک ہی بار میں 2 طلاقیں دی تھیں جن کےالفاظ یہ تھے کہ “فاطمہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اور اُس کے تین دن بعد رجوع کر لیا تھا اور میں نے آخری طلاق میرے مطابق6 مئی کو دی، میری نیت طلاق کی نہیں تھی ، میں نے بس بول دیا کہ “فاطمہ ، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں”اور میں نشے کی حالت میں تھا،میں طلاق نہیں دینا چاہ رہا تھا بس میرے منہ سے نکل گیا۔اور ان باتوں کی گواہ صرف میری بیوی ہے، اس کے علاوہ کوئی نہیں۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔ کس چیز کا نشہ کیا ہوا تھا؟ 2۔ نشہ کتنے عرصے سے کررہے ہیں؟ 3۔ نشے کی حالت میں آپ کو معلوم تھا کہ کیا کہہ رہے ہیں؟ 4۔ طلاق فون پر دی تھی یا بیوی کے سامنے؟
جواب وضاحت: 1۔چرس کا نشہ کیا ہوا تھا۔ 2۔ تین سال سے کررہا ہوں۔3۔ دونوں مرتبہ نشے کی حالت میں طلاق دی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور خلاف عادت کوئی فعل (توڑ پھوڑ) بھی صادر نہیں ہوا اور کوئی غلط گفتگو بھی نہیں کی ۔4۔فون پر طلاق دی تھی اس وقت میں لیٹا ہوا تھا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق اول تو اکثر و بیشتر اہل علم کے نزدیک واقع ہو جاتی ہے خواہ نشہ کی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو اور جن بعض اہل علم کے نزدیک نشے کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی وہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب کلام میں اختلاط و ہذیان غالب ہو۔ مذکورہ صورت میں نشہ اس درجے کا معلوم نہیں ہوتا اس لیے مذکورہ صورت میں جب شوہر نے اکٹھی دو طلاقیں دیں تو دو طلاقیں واقع ہوگئیں اور عدت کے اندر رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا، پھر 6 مئی کو شوہر کے ان الفاظ سے کہ ” رباب رفیق میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تو تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ۔
بدائع الصنائع (4/267) میں ہے:
وأما السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعا حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنهم وعن عثمان رضي الله عنه أنه لا يقع طلاقه وبه أخذ الطحاوي والكرخي وهو أحد قولي الشافعي ……….. بخلاف ما إذا زال بالبنج والدواء لأنه ما زال بسبب هو معصية
شامی (4/428) میں ہے:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا …………. (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري واختلف التصحيح فيمن سكر مكرها أو مضطرا، ونعم لو زال عقله بالصداع أو بمباح لم يقع
شامی (4/432) میں ہے:
(قوله أو سكران) السكر: سرور يزيل العقل فلا يعرف به السماء من الأرض. وقال: بل يغلب على العقل فيهذي في كلامه، ورجحوا قولهما في الطهارة والأيمان والحدود. وفي شرح بكر: السكر الذي تصح به التصرفات أن يصير بحال يستحسن ما يستقبحه الناس وبالعكس. لكنه يعرف الرجل من المرأة قال في البحر: والمعتمد في المذهب الأول نهر. قلت: لكن صرح المحقق ابن الهمام في التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الإمام إنما هو السكر الموجب للحد، لأنه لو ميز بين الأرض والسماء كان في سكره نقصان وهو شبهة العدم فيندرئ به الحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء، ومال أكثر المشايخ إلى قولهما، وهو قول الأئمة الثلاثة واختاروه للفتوى لأنه المتعارف، وتأيد بقول علي – رضي الله عنه – إذا سكر هذى رواه مالك والشافعي
شامی (4/434) میں ہے:
(قوله أو بمباح) كما إذا سكر من ورق الرمان فإنه لا يقع طلاقه ولا عتاقه ونقل الإجماع على ذلك صاحب التهذيب كذا في الهندية
الدر المختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل
قوله: (كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق
ہندیہ (1/353) میں ہے:
وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط
عالمگیری (1/470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
بدائع الصنائع (3/395) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved