- فتوی نمبر: 26-72
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
ایک شخص جو آئس کے نشے میں دھت تھا اور آئس کے مسلسل نشے کی وجہ سے مسلسل عجیب و غریب حرکتیں کر رہا تھا اور مسلسل غیر اخلاقی الفاظ بول رہا تھا، ایسے میں اس نے اپنی بیوی کو ان الفاظ سے طلاق دی کہ ’’اچھا تو طلاق چاہتی ہے تو یہ لے ایک دو تین‘‘ جبکہ خاتون نے طلاق نہیں مانگی تھی، اور شوہر نہ صرف نشے میں دھت تھا بلکہ اس کا دماغی توازن بھی درست نہیں تھا، طلاق سے آٹھ مہینے پہلے ہی دماغی توازن خراب ہو گیا تھا۔ کیا مذکورہ صورت میں طلاق ہوگئی ہے؟ اگر ہو گئی ہے تو واپسی کی شرعی صورت بھی بتا دیں کیونکہ جس عورت کو طلاق ہوئی ہے اس کے دو بچے ہیں اور وہ بے یارومددگار ہے۔
وضاحت مطلوب ہے کہ: (1)عجیب و غریب حرکتوں سے کیا مراد ہے؟(2)کیا غیر اخلاقی الفاظ بولے تھے؟ (3) دماغی توازن درست نہ ہونے کی کوئی میڈیکل رپورٹ موجود ہے تو مہیا کی جائے۔
جواب وضاحت: (1)کبھی چھت پر بھاگنا، کبھی نیچے گلی میں آنا، گلی کی چیزوں کو چھیڑنا، بیوی کی شلواریں پھاڑنا اور لوگوں کو دکھانا کہ میری بیوی نے کسی سے زنا کے دوران پھاڑی ہیں، محلے والوں کو اکٹھا کرنا اور انہیں بتانا کہ میری بیوی غلط ہے، میں نے خود دیکھا ہے اور میرے پاس ویڈیوز بھی ہیں۔
(2)نشے میں کہناکہ میں اپنی بیٹی کو طوائف بناؤں گا(بیٹی 9سال کی ہے) اسی طرح کہنا کہ میری بیوی نے میرے بیٹے سے زنا کروایا ہے (بیٹا 14سال کا ہے)
(3) میڈیکل رپورٹ موجود ہے، لیکن مہیا نہیں کی جا سکتی کیونکہ جس بیوی کو طلاق دی ہے وہ دوسری بیوی ہے، اور میڈیکل رپورٹ پہلی بیوی اور شوہر کے بھائیوں کے پاس ہے اور وہ لوگ چاہتے ہیں کہ دوسری بیوی کو طلاق ہو جائے اس لیے وہ میڈیکل رپورٹ نہیں دے رہے، شوہر ہسپتال میں داخل ہے وہ اس معاملے میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔
نوٹ: بیوی نے ساری صورتحال کی تصدیق کی ہے اور کہا ہےکہ طلاق 2اگست کو ہوئی اور طلاق دینے کے تقریباً 1مہینہ بعد شوہرہسپتال میں ایڈمٹ ہوا ہے ڈاکٹروں نے علاج شروع کر دیا ہے اور علاج کا دورانیہ 5ماہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ نشے کی وجہ سے دماغ کی رگیں بند ہوگئی ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتا شوہر اس قدر نشے میں تھا کہ اس کی گفتگو میں ہذیان (اول فول بکنا)غالب تھا تو مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں شوہر آئس کے نشے کا عادی ہے اور آئس کے نشے کا عادی اگر نشہ نہ کرے تو جسم میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے، لہذا اس صورت میں شوہر مجبور ہے اور اس مجبوری کی وجہ سے اس کے لیے آئس کا نشہ مباح ہے اور مباح نشے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اور اگر یہ نشہ حرام بھی ہو تو پھر بھی نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کے بارے میں حنفیہ کا اگرچہ راجح موقف یہی ہے کہ یہ طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن حنفیہ میں سے ہی بعض بڑے حضرات مثلاً امام طحاویؒ ،امام کرخیؒ اور صحابہ کرام ؓاور تابعین ؒمیں سے بعض بڑے صحابہ و تابعین کا موقف یہ ہے کہ نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، نشہ خواہ مباح ہو یا حرام ہو۔
ہمارے زمانے میں نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کو واقع ماننے سے اکثر زد بیوی پر ہی پڑتی ہے، لہذا بیوی بچوں کی مجبوری کی وجہ سے ان حضرات کے قول پر عمل کیا جا سکتا ہے جو نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کو واقع نہیں مانتے۔
فتح القدير(472/3) میں ہے:
وفي المسئلة خلاف عال بين التابعين و من بعدهم فقال بوقوعه من التابعين سعيد بن المسيب وعطاء و الحسن البصري و إبراهيم النخعي و ابن سيرين و مجاهد و به قال مالك و الثوري و الأوزاعي و الشافعي في الأصح و أحمد في رواية وقال بعدم وقوعه القاسم بن محمد و ربيعة و الليث و أبو ثور و زفر و هو مختار الكرخي و الطحاوي و محمد بن سلمة من مشائخنا.
درمختار مع ردالمحتار( 432/4) میں ہے:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها)……. (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري…….. ولم يوقع الشافعي طلاق السكران واختاره الطحاوي والكرخي، وفي التتارخانية عن التفريق: والفتوى عليه.
(قوله أو سكران) السكر: سرور يزيل العقل فلا يعرف به السماء من الأرض. وقال: بل يغلب على العقل فيهذي في كلامه، ورجحوا قولهما في الطهارة والأيمان والحدود. وفي شرح بكر: السكر الذي تصح به التصرفات أن يصير بحال يستحسن ما يستقبحه الناس وبالعكس. لكنه يعرف الرجل من المرأة قال في البحر: والمعتمد في المذهب الأول نهر. قلت: لكن صرح المحقق ابن الهمام في التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الإمام إنما هو السكر الموجب للحد، لأنه لو ميز بين الأرض والسماء كان في سكره نقصان وهو شبهة العدم فيندرئ به الحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء………. (قوله واختاره الطحاوي والكرخي) وكذا محمد بن سلمة، وهو قول زفر كما أفاده في الفتح (قوله عن التفريق) صوابه عن التفريد بالدال آخره لا بالقاف كما رأيته في نسخ التتارخانية.(قوله والفتوى عليه) قد علمت مخالفته لسائر المتون ح. وفي التتارخانية: طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ وهو مذهب أصحابنا.
فتح القدير(473/3) میں ہے:
والحاصل أن السكر بسبب مباح كمن أكره على شرب الخمر والأشربة الأربعة المحرمة أو اضطر لا يقع طلاقه وعتاقه، ومن سكر منها مختارا اعتبرت عباراته.
درمختار مع ردالمحتار(52/10) میں ہے:
سئل ابن حجر المكي عمن ابتلي بأكل نحو الأفيون وصار إن لم يأكل منه هلك. فأجاب: إن علم ذلك قطعا حل له، بل وجب لاضطراره إلى إبقاء روحه كالميتة للمضطر، ويجب عليه التدريج في تنقيصه شيئا فشيئا حتى يزول تولع المعدة به من غير أن تشعر، فإن ترك ذلك فهو آثم فاسق اهـ ملخصا. قال الرملي: وقواعدنا لا تخالفه.
درمختار مع ردالمحتار(175/1) میں ہے:
وحاصل ما ذكره الشيخ قاسم في تصحيحه:…… وأن الحكم والفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للإجماع.
(قوله: وأن الحكم والفتيا إلخ) وكذا العمل به لنفسه. قال العلامة الشرنبلالي في رسالته ’’العقد الفريد في جواز التقليد‘‘ : مقتضى مذهب الشافعي كما قاله السبكي منع العمل بالقول المرجوح في القضاء والإفتاء دون العمل لنفسه. ومذهب الحنفية المنع عن المرجوح حتى لنفسه لكون المرجوح صار منسوخا اهـ فليحفظ، وقيده البيري بالعامي أي الذي لا رأي له يعرف به معنى النصوص حيث قال: هل يجوز للإنسان العمل بالضعيف من الرواية في حق نفسه، نعم إذا كان له رأي، أما إذا كان عاميا فلم أره، لكن مقتضى تقييده بذي الرأي أنه لا يجوز للعامي ذلك. قال في خزانة الروايات: العالم الذي يعرف معنى النصوص والأخبار وهو من أهل الدراية يجوز له أن يعمل عليها وإن كان مخالفا لمذهبه اهـ.
قلت: لكن هذا في غير موضع الضرورة، فقد ذكر في حيض البحر في بحث ألوان الدماء أقوالا ضعيفة، ثم قال: وفي المعراج عن فخر الأئمة: لو أفتى مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلبا للتيسير كان حسنا. اهـ. وكذا قول أبي يوسف في المني إذا خرج بعد فتور الشهوة لا يجب به الغسل ضعيف، وأجازوا العمل به للمسافر أو الضيف الذي خاف الريبة كما سيأتي في محله وذلك من مواضع الضرورة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved