• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نو سال سے خفیہ اداروں کے زیر حراست شوہر جس کی موت وحیات کا علم نہ ہو اس کی بیوی کے خلع لینے کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ میرا بھائی کئی سال سے لاپتہ ہے،اسے کوئی ایجنسی والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ دراصل تین بھائیوں کو اٹھایا تھا،ایجنسی والوں نے ایک بھائی کی صرف قبر دکھائی ہے ہم نے خود لاش نہیں دیکھی اور ہمارے کچھ لوگوں نے اخبار میں بھی اس کی موت کی خبر دیکھی اور کچھ لوگوں نے ان کی لاش بھی دیکھی ہے لیکن باقی دو بھائیوں کا بالکل پتہ نہیں کہ کہاں ہیں  اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی  ہیں یا نہیں؟ کچھ معلوم نہیں۔ہم نے کئی تھانوں سے معلوم کروایا اور کئی سرکاری لوگوں سے معلوم کرنا چاہا لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔ان کو غائب ہوئے تقریبا نو سال ہو چکے ہیں۔وہ دونوں بھائی شادی شدہ تھے،ایک کے بچے ہیں اور دوسرے بھائی خطیب اللہ کے بچے نہیں ہیں۔جس کے بچے نہیں ہیں اس کی بیوی اور اس کے گھر والے بہت پریشان رہتے ہیں کہ اب کیا بنے گا؟اس کا شوہر زندہ بھی ہے یا نہیں؟وہ واپس آئے گا یا نہیں کچھ معلوم نہیں۔لڑکی کے والد نے کہا کہ اب  ہم عدالت سے نکاح ختم کروالیتے  ہیں۔تو کیا خطیب اللہ کی بیوی کا نکاح ختم کروا کر کسی اور جگہ نکاح کیا جا سکتا ہے؟برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں حکم یہ ہے کہ خطیب اللہ کی بیوی عدالت سے رجوع کرے اور شوہر کے لاپتہ ہونے کی بناء پر دعوی دائر کرے۔عدالت عورت کو چار سال کے انتظار کا حکم دے اور اس دوران عدالت اپنے طریقے اور وسائل سے شوہر کا پتہ کروائے،اگر چار سال تک اتا پتہ معلوم ہو جائے تو ٹھیک ورنہ چار سال کے بعد عورت دوبارہ عدالت سے رجوع کرے اور عدالت شوہر کو مردہ تصور کر کے اس نکاح کو ختم کر دے،اس کے بعد عورت عدت وفات یعنی چار ماہ دس دن گذارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

نوٹ:چار سال تک انتظار کا حکم اس صورت میں ہے جب عورت کے پاس ان چار سال کے خرچے کا انتظام ہو اور وہ عفت اور پاکدامنی کے ساتھ گزارہ کرسکتی ہو لیکن اگر عورت کے پاس خرچہ نہ ہو اور نہ ہی کسی عزیز و اقارب یا حکومت کی طرف سے اس کا انتظام ہوسکے تو شوہر کے لاپتہ ہونے کے وقت سے ایک ماہ بعد بھی عورت عدالت سے اپنا نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔اور اگر خرچہ کا تو کوئی انتظام ہے لیکن بغیر شوہر کے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو اور زنا میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو ایک سال انتظار کے بعد بھی عورت عدالت سے اپنا نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔لیکن اگر عورت نے خرچہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کے لاپتہ ہونے کے ایک ماہ بعد یا زنا میں پڑنے کے اندیشہ کی وجہ سے شوہر کے لاپتہ ہونے کے ایک سال بعد جدائی حاصل کی تو یہ جدائی طلاق رجعی شمار ہوگی جس کا حکم  یہ ہے کہ عورت کو عدالت کے فیصلے کے بعد طلاق کی عدت یعنی تین حیض گزارنے ہوں گے۔

الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشیۃ الدسوقی (2/ 479)میں ہے:

(ولزوجة المفقود)ببلاد الإسلام….(الرفع للقاضي والولي و والي الماء)…(فيؤجل الحر أربع سنين إن دامت نفقتها)…(من) حين (العجز عن خبره) بالبحث عنه في الأماكن التي يظن ذهابه إليها من البلدان بأن يرسل الحاكم رسولا بكتاب لحاكم تلك الأماكن مشتمل على صفة الرجل وحرفته ونسبه ليفتش عنه فيها.(ثم) بعد الأجل الكائن بعد كشف الحاكم عن أمره ولم يعلم خبره(اعتدت)عدة (كالوفاة)أي كعدة الوفاة الحرة بأربعة أشهر وعشر.

حیلہ ناجزہ(ص:62)میں ہے:

عورت قاضی کی عدالت میں مرافعہ کرے…. قاضی خود بھی مفقود کی تفتیش وہ تلاش کرے اور جب پتہ ملنے سے مایوسی ہو جائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے۔پھر اگر ان چار سال کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو مفقود کو اس چار سال کی مدت ختم ہونے پر مردہ تصور کیا جائے گا اور نیز ان چار سال کے ختم ہونے کے بعد چار ماہ دس دن عدت وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا….مگر احتیاط اس میں ہے کہ جب وہ چار سال جو قاضی نے مقرر کیے تھے ختم ہو چکے ہیں تو دوبارہ درخواست دے کر قاضی سے حکم بالموت بھی حاصل کر لیا جائے تاکہ مذہب حنفیہ کی حتی الوسع رعایت ہو جائے لیکن جس جگہ قاضی وغیرہ کی طرف دوبارہ مرافعہ زیادہ دشوار ہے وہاں پر بغیر مرافعہ ثانی کے ہی عمل کر لینے میں مضائقہ نہیں۔

فتاوی عثمانی(2/448)میں ہے:

سوال:مفقود کی بیوی کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

جواب:۔۔۔۔اور اگر عورت زنا کا شدید خطرہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال کا انتظار کا حکم ضروری نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ شوہر کے غائب ہونے کے وقت سے اب تک کم از کم ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے یا نہیں؟اگر گزر چکا ہو تو قاضی مزید مہلت دیے بغیر اس وقت بھی نکاح ختم کر سکتا ہے۔اسی طرح اگر زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں لیکن مفقود کا اتنا مال موجود نہیں جو ان چار سالوں میں اس کی بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو،یا بیوی کے لیے مفقود کے مال سے نان و نفقہ حاصل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں اگر نان و نفقہ دینے کے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو تو قاضی نکاح ختم کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اخری ان دونوں صورتوں میں عورت عدتِ وفات کی بجائے عدتِ طلاق گزارے گی،جو قاضی کے فیصلے کے وقت سے شمار ہوگی۔

احسن الفتاوی(5/422)میں ہے:

فائدہ:زوجہ مفقود کے لیے قاضی کی عدالت میں فسخ نکاح کی درخواست کے بعد جو مزید چار سال کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے یہ اس صورت میں ہے جبکہ عورت کے لیے نفقہ اور گزارہ کا بھی کچھ انتظام ہو اور عصمت اور عفت کے ساتھ یہ مدت گذارنے پر قادر بھی ہو،اور اگر اس کے نفقہ اور گزارہ کا کوئی انتظام نہ ہو نہ شوہر کے مال سے نہ کسی عزیز و قریب یا حکومت کے تکفل سے اور خود بھی محنت مزدوری پردہ اور عفت کے ساتھ کر کے اپنا گزارا نہیں کر سکتی تو جب تک صبر کر سکے شوہر کا انتظار کرے جس کی مدت ایک ماہ سے کم نہ ہو اس کے بعد قاضی یا کسی مسلمان حاکم مجاز کی عدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے،اور اگر نفقہ اور گزارہ کا تو انتظام ہے مگر بغیر شوہر کے رہنے میں اپنی عفت و عصمت کا اندیشہ قوی ہے تو سال بھر صبر کرنے کے بعد قاضی کی طرف مرافعہ کرے اور دونوں صورتوں میں گواہوں کے ذریعے ثابت کرے کہ اس کا شوہر فلاں اتنی مدت سے غائب ہے اور اس نے اس کے لیے کوئی نان نفقہ نہیں چھوڑا،اور نہ ہی کسی کو نفقہ کا ضامن بنایا اور اس نے اپنا نفقہ اس(شوہر)کو معاف بھی نہیں کیا،اور اس پر عورت حلف بھی کرے اور دوسری صورت یعنی عفت کے خطرے کی حالت میں قسم کھائے کہ میں بغیر شوہر کے اپنی عفت قائم نہیں رکھ سکتی،قاضی کے پاس جب یہ ثبوت مکمل ہو جائے تو قاضی اس کو کہہ دے کہ میں نے تمہارا نکاح فسخ کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved