- فتوی نمبر: 26-77
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ فاسدہ کے احکام
استفتاء
میں آن لائن کام کرتا ہوں جس میں ایک کام کے بارے میں رہنمائی چاہیے تھی کہ کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ جولوگ یونیورسٹیوں میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی ) کر رہے ہوتے ہیں انہوں نے جب کسی موضوع پر کام کرنا ہوتا ہے اور یونیورسٹی سے اسے طے کروانا ہوتا ہے تو انہیں پہلے اس موضوع پر سابقہ کیا جاچکا کام دکھانا پڑتا ہے کہ اس موضوع پر یہ یہ کام ہو چکا ہے اور اب ہم اس سے آگے مزید یہ کام کریں گے ، اس سابقہ کام کی چونکہ پوری تفصیل انہیں بتانی پڑتی ہے اور ان کیے جاچکے کاموں پر بھی کچھ مزید کام کرکے انہیں پیش کرنا پڑتا ہے وہ لوگ یہ کام آن لائن ہم سے کرواتے ہیں اور ہم انہیں ان پہلے سے جاری ریسرچ پیپر ز کو از سر نو صحیح (REPRODUCE)کر کے دیتے ہیں، آگے انہوں نے کیا کام کرنا ہوتا ہے وہ ہمیں نہیں پتہ ہوتا نہ ہی ہم اس میں ان کی کوئی مدد کرتے ہیں تو کیا آن لائن اجرت پر یہ کام کرنا جائز ہے؟
تنقیح : اس بارے میں جو اس شعبہ کے لوگوں سے معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق سابقہ کام کو جمع کرنا اور اس کو پیش کرنا بھی پی ایچ ڈی کے طالب علم کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کے کام کا گویا حصہ ہی شمار ہوتا ہے اس لیے اگر کوئی جزوی طورپر کسی سے معاونت لے تو یہ تو قابل قبول ہوتا ہے لیکن کلی طور پر کسی سے کام کروانا معیوب شمار ہوتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس شعبہ کے لوگوں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق چونکہ یہ مذکورہ کام بھی اس پی ایچ ڈی کے طالب علم کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے اس لیے اس پی ایچ ڈی کے طالب علم کا کسی اور سے اجرت پر یہ کام کروا کر آگے پیش کرنا خیانت بنے گی اور آپ کا اجرت پر یہ کام کر کے دینا اس خیانت میں تعاون بنے گاجو ناجائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved