• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پراویڈنٹ فنڈ کا حکم

استفتاء

حضرت پراویڈنٹ فنڈ کے حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اس میں یہ ہوتا ہے کہ جس کمپنی میں آپ ملازمت کرتے ہیں وہاں ہر ماہ آپ کی تنخواہ کا کچھ حصہ کٹ جاتا ہے اور اتنا ہی حصہ کمپنی شامل کرتی ہے پھر ایک سال گذر جانے کے بعد اس پر نفع لگتا ہے یہ رقم عام طور پر ریٹائرمنٹ پر ملتی ہے اور دس پندرہ سال سروس ہونے کی صورت میں پہلے  بھی آپ نکلوا سکتے ہیں۔اس کے بارے میں پوچھنا ہے کہ کیا یہ رقم لینا جائز ہے سود تو نہیں؟

تنقیح : ہماری کمپنی میں یہ رقم جبری کاٹی جاتی ہے اختیاری نہیں ہے ،نیز کمپنی آگے کہاں انویسٹ کرتی ہے نہ ہمیں پتہ ہے اور نہ ہم سے پوچھتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پراویڈنٹ فنڈ کی رقم لینا جائز ہے یہ رقم سود نہیں ہوتی۔

جواہرالفقہ(277/3) میں ہے:

 اس سے صاف واضح ہے اجرت کا جو حصہ ابھی ملازم کے قبضے میں نہیں آیا نہ وہ اس کا مملوک ہے اور نہ اس کے تصرفات اس میں جائز ہیں ۔۔۔۔لہذا جس وقت محکمہ اپنا یہ واجب الادا دین ملازم کو ادا کرتا ہے اور اس میں کچھ رقم اپنی طرف سے مزید ملا کر دیتا ہے تو یہ بھی محکمہ کا اپنا یک طرفہ عمل ہے ،کیونکہ اول تو ملازم نے اس زیادتی کے ملانے کا حکم نہیں دیا تھا اور اگر حکم دیا بھی ہو تو اس کا یہ حکم شرعا معتبر نہیں ،اس لئے کہ یہ حکم ایک ایسے مال سے متعلق ہے جو اس کا مملوک نہیں۔ بنا بریں محکمہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر جو زیادتی اپنی طرف سے دے رہا ہے اس پر شرعی اعتبار سے ربا کی تعریف صادق نہیں آتی، خواہ محکمہ نے اسے سود کا نام لے کر دیا ہو۔

جواہر الفقہ (285/3) میں ہے

 مسئلہ: جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہرماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہےشرعا تینوں رقموں  کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب درحقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہے ،اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذا ملازم کو ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، ان میں سے کوئی رقم بھی شرعاسود نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved