- فتوی نمبر: 35-306
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عبادات > قربانی کا بیان > وجوب قربانی کا بیان
استفتاء
1۔اگر میں نے کسی کا قرض دینا ہو اور میں قربانی کرنا چاہوں تو کیا میں قربانی کر سکتی ہوں یعنی کیا ایک قرضدار قربانی کر سکتا ہے؟
2۔کیا ایک قرضدار جس کا ابھی قرضہ نہ اترا ہو وہ اپنے بچے کا عقیقہ کر سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مقروض کے پاس اگر قرضے کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ضرورت سے زائد کوئی بھی چیز موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے اور اگر اتنی مالیت کی کوئی چیز ضرورت سے زائد موجود نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہ ہوگی لیکن اس کے باوجود اگر وہ قربانی کر لے تو قربانی ہو جائے گی تاہم اگر قرض خواہ کی طرف سے قرض کا تقاضا ہو تو قربانی نہ کرے بلکہ قرض اتارنے کی فکر کرے۔
2۔کر سکتا ہے لیکن اگر قرض خواہ کی طرف سے قرض کا تقاضا ہو تو قرض پہلے اتارنے کی فکر کرے۔
ہندیہ (9/36) میں ہے :
ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب
شامی (9/520) میں ہے :
وشرائطها: (الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)
(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم
احسن الفتاوى (7/507) میں ہے:
سوال: کسی کے پاس وجوب قربانی کا نصاب کامل موجود ہو مگر اس پر قربانی بھی ہو نصاب سے قرض ادا کرنے کے بعد اتنی مالیت بچ جاتی ہے جس سے قربانی کا جانور خرید سکے تو اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں ؟
جواب: نصاب سے قرض وضع کرنے کے بعد اگر نصاب میں نقص نہیں آتا نصاب کامل باقی رہتا ہے تو قربانی واجب ہے ورنہ نہیں۔
فتاوی محمودیہ (9/323) میں ہے :
سوال: زید آج سے پہلے دس ہزار کا مقروض تھا اور قرض خواہوں نے حکومت میں مقدمہ دائر کرا دیا تھا مگر زید کے پاس کوئی ایسی ملک نہ تھی کہ حکومت کے قانون کے موافق قرض خواہوں کو دی جاتی،اس وجہ سے حکومت کا قانون زید سے اٹھ گیا۔اب زید فی الحال کچھ رقم یعنی پانچ ہزار کا مالک ہوا ہے مگر قرض خواہوں کو رقم ادا کرنے میں وہ رقم پوری نہیں ہو سکتی،ایک قرض خواہ کو کچھ رقم دے تو دوسرا قرض خواہ پریشان کرتا ہے اور زید کے پاس اتنی رقم نہیں کہ سب کو ادا کر سکے۔سوال یہ ہے کہ زید اس پانچ ہزار کی زکوۃ،فطرہ،قربانی،وغیرہ ادا کرنا چاہے تو ہو سکتا ہے یا نہیں؟زید سمجھتا ہے کہ قرض ادا کرنا مقدم ہے مگر رقم کافی نہ ہونے کی بنا پر اور قرض خواہوں کے پریشان کرنے کی وجہ سے ادا نہیں کر سکتا۔اس صورت میں وہ صاحب نصاب ہوگا یا نہیں؟اور زکوۃ ادا کرنی پڑے گی یا نہیں؟
الجواب حامداً ومصليا: قانون سرکاری کی رو سے اگر کوئی قرض خواہ قرض وصول نہ کر سکے تو زید شرعاً سبکدوش نہیں ہوا بلکہ زید کے ذمہ حتی الوسع اس کی ادائیگی فرض ہے اور جب تک قرض سے فاضل مقدار نصاب نہ ہو زکوۃ فرض نہیں ہوگی لہذا زید کو چاہیے کہ اولاً جس ترکیب سے مناسب اور مصلحت ہو قرض خواہوں کا قرض ادا کرے،پھر اگر فرض ہو،زکوۃ ادا کریں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/226) میں ہے :
سوال: عقیقہ سنت ہے یا فرض اور ہر غریب پر ہے یا امیروں پر ہی ہے اور اگر غریب پر ضروری ہے تو پھر غریب طاقت نہیں رکھتا تو غریب کے لیے کیا حکم ہے ؟
جواب: عقیقہ سنت ہے اگر ہمت ہو تو کرے ورنہ کوئی گناہ نہیں۔
فتاوی دارالعلوم دیوبند (2/796) میں ہے :
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ انسان کو قربانی کس حالت میں جائز ہے۔اگر مقروض بھی ہے اور خواہش دلی رکھتا ہو کہ میں قرضہ بھی لے کر قربانی کر دوں تو اس کو جائز ہے یا ناجائز؟ اور وہ اس کے ثواب کا حقدار ہے یا نہیں ؟ اگر کسی نے قربانیاں دی ہیں کیا قربانی دینے والا ثواب کا حقدار ہے یا اس کے اقربا بھی ثواب کا حصہ لے سکتے ہیں؟
جواب: جو شخص مالک نصاب ہو یعنی 52 روپیہ نقد یا اس قدر روپیہ کا سامان جو حاجات اصلیہ سے زائد ہو اس کا مالک ہو تو اس پر قربانی کرنا واجب اور ضروری ہے اور اگر اس قدر سامان یا نقد نہ ہو تو ضروری نہیں اور جو شخص مقروض ہو اس کو قرض ادا کرنے کی فکر کرنی چاہیے قربانی نہ کریں۔لیکن اگر کر لی تو ثواب ہوگا۔كذا عرف من القواعد الفقهية .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
