• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قصبہ میں جمعہ کی شرائط

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ وزیرستان کا ایک علاقہ جو  کاڑامہ کے نام سے جانا جاتا ہے اس میں عرصہ دراز (تقریبا سو سال) سے جمعہ اور عیدین کی نماز ادا کی جاتی تھی اور جب وزیرستان میں اپریشن شروع ہوا تو لوگ نقل مکانی کر کے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک وغیرہ میں منتقل ہو گئے اور پھر متاثرین کی بحالی کے بعد لوگ واپس اپنے علاقے میں آگئے تو پھر بھی یہ نماز جمعہ اور عیدین تقریبا چار سال تک پڑھتے رہے اب بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ یہاں پر جمعہ اور عیدین کی نماز کی شرائط پوری نہیں ہیں جس کی وجہ سے جمعہ اور عیدین  کی نماز یہاں پر ادا نہیں کی جا سکتی تو  لوگوں میں جمعہ اور عیدین کے ادا کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں شدید اختلاف ہو رہا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مذکورہ مقام پر عرصہ دراز سے جمعہ اور عیدین جاری رہی ہیں لہذاانہیں  اب بھی جاری رکھا جائےاور بعض لوگ  کہتے ہیں کہ جب شرائط پوری نہیں ہیں تو جمعہ اور عیدین کی نماز کو بند کر دینا چاہیے۔اب ان حالات میں ہمیں  کیا کرنا چاہیے؟

وضاحت مطلوب ہے کہ: (1)فی الحال آبادی کتنی ہے؟ (2)بالغ مردوں كی تعداد کتنی ہے؟(3)کیا کیا سہولیات میسر ہیں(پرچون کی دکانیں، کپڑے جوتے کی دکانیں، نائی ترکھان وغیرہ) کی کتنی دکانیں ہیں؟ سکول، ڈاکٹر، میڈیکل سٹور، تھانہ وغیرہ کی مکمل تفصیل فراہم کریں پھر جواب دیا جائے گا۔

جواب وضاحت :(2،1) 500خاندان اور گھر موجود ہیں آبادی تقریبا 4 اور 5 ہزار کے درمیان ہے مذکورہ جگہ پر  تقریبا 3 ہزار آبادی مستقل موجود ہے جبکہ باقی دو ہزار کے قریب نوکری وغیرہ کے سلسلے میں دوسرے شہر میں ہوتے ہیں۔ (3)دوکانوں کی تعداد 27 کے لگ بھگ  ہے کپڑے کی دوکانیں ہیں اور میڈیکل سٹور 3 ،4 ہیں سکول بھی ہے اور پولیس تھانہ بھی موجود ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ  تفصیل کے مطابق”کاڑامہ” کی مجموعی صورتحال بڑے قصبے کی ہے اور بڑے قصبے میں جمعہ وعیدین درست ہیں اور اس قصبے میں کافی عرصے سے جمعہ وعیدین   پڑھی بھی جا رہی ہیں  لہذا مذکورہ حالات میں آپ حضرات کو مذکورہ قصبے میں جمعہ وعیدین کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

حاشیہ ابن عابدین(3/8 ) میں ہے:

وعبارة القهستانى وتقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها اسواق.

امداد الاحکام (1/756) میں  ہے:

سوال: حنفیہ کے نزدیک ایسے گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں جس کی تعریف حسب ذیل ہے:

آبادی 1948 ہے جس میں مسلمان مختلف قومیں آباد ہیں، شیخ، پٹھان، زمیندار، راجپوت ،نومسلم، لوہار، بڑہئی، نائی،دھوبی، قصائی، تیلی منہیار، درزی، تیر گر، ڈوم،خرادی،نداف،جولاہا،سقہ،عطار،پنساری ، بزاز وغیرہ وغیرہ،وسط گاؤں میں مسلسل دو طرفہ تقریبا 40 دکانیں ایک ڈاکخانہ ایک ہی مسجد ہے مع حوض نہایت عالیشان ہے پہلے سے جمعہ ہوتا آیا ہے، اب اختلاف ہوا ہے،

جواب: اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے۔ قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی 4000 کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو، جس میں دکانیں چالیس پچاس متصل ہو ں اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریات روزمرہ کی ملتی ہوں مثلاجوتہ کی دکان بھی ہو، کپڑے کی بھی، عطار کی بھی ہو، بزاز کی بھی، غلہ کی بھی دودھ گھی کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو معمارو مستری بھی ہو وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں،پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گی وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا۔

 قال فی رد المحتار عن ابي حنيفة انه بلدة كبيرة فيها سكك واسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على انصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه او علم غيره يرجع الناس اليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الاصح….. قلت اقمنا البوليس وقيامه مقام الوالى  لرجوع الناس اليه في الحوادث والرساتيق المحلات والقرى التابعة لها و قال في الغنية المتملي والفصل في ذلك ان مكة والمدينة مصر  ان تقام بها الجمعة من زمنه عليه الصلاة والسلام الى اليوم فكل موضع كان مثل احدهما فهو مصر فكل تفسيرلايصدق على احدهما فهو غير معتبر ثم صح الرواية التي ذكرناها عن الامام وقال قال قاضي خان والاعتماد على ما روي عن ابي حنيفة كل موضع بلغت ابنيته مني وفيه مفتى وقاض فهو مصر جامع وعن محمد ان كل موضع مصره الامام فهو مصر حتى أنه لو بعث إلى قرية نائبا لإقامة الحدود والقصاص تصير مصرا فإذا عزله تلحق بالقرى ووجه ذلك ماصح انه كان لعثمان عبدا اسود أميرا على الربذة ليصلى خلفه ابوذر وعشرة من الصحابة الجمعة وغيرها،ذکرہ ابن حزم فی المحلی اھ.

کفایت المفتی(3/242) میں ہے:

سوال:  شرائط نماز جمعہ کیا ہیں کیا ایسے گاؤں میں جہاں پچاس ساٹھ گھر مسلمان آباد ہوں اور مسجد قریب قریب بھر جاتی ہو نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: جس مسجد میں قدیم الایام سے جمعہ ہو تا ہو اور وہاں ضرورت کی چیز یں مل جاتی ہوں وہاں جمعہ قائم رکھنا جائز ہے ۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔

دوسری جگہ (3/247) میں ہے:

سوال:  گاؤں کا کوسی آج سے تقریبا دو سو سال کا ہے تو جب سے یہ گاؤں قائم ہوا ہے اس وقت سے یہاں پر عیدین کی نماز ہوتی ہے اور قرب و جوار سے لوگ بھی آکر شریک نماز ہوتے ہیں اور یہاں کی آبادی قریباً آٹھ سو ساڑھے آٹھ سو گھر کی ہے پولیس تھا نہ ہے ریل ہے سرکاری اسکول ہے سوائے سبزی بھاجی کے ضرورت کی ہر شے مل جاتی ہے سبزی بھاجی بھی کبھی کبھی مل جاتی ہے اور جب گاؤں میں پیداوار ہوتی ہے تو ہمیشہ مل جاتی ہے مساجد تین ہیں اور یہاں کی بڑی مسجد میں اگر سب جمع ہوں تو سب نہیں آسکتے مسجد کے تین حصے ہیں ہر تین کا عرض و طول درج ذیل ہے حصہ اول کا طول بیس ہاتھ عرض چودہ ہاتھ ، حصہ ثانی کا طول ساڑھے چودہ ہاتھ عرض چھ ہاتھ ،حصہ ثالث کا طول ۲۶ ہاتھ عرض ۲۴ ہاتھ ۔ حصہ ثالث صحن سے باقی کنواں غسل خانہ وغیرہ علیحدہ ہیں تو کیا ان سب باتوں کے باوجود یہاں پر نماز عید ین یا جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب:  قائم شدہ نماز عیدین اور نماز جمعہ اس موضع میں ادا کرتے رہنا جائز ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved