• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قے اگر کپڑوں پر لگ جائے تو ان کپڑوں سے نماز ادا کی جاسکتی ہے؟اور قے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

استفتاء

1۔اگر کوئی دودھ پیتا بچہ کپڑو ں پر قے کرے تو کیا ان کپڑوں میں نماز ہوتی ہے؟

2۔  اسی طرح اگر کوئی  بڑا  قے  کرے تو کیا ان کپڑوں میں نماز ہوتی ہے؟

3۔  اگر کوئی قے کرے تو اس کا وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ٹوٹتا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

2،1۔ اگر قے منہ بھر کے ہو چاہے  دودھ پیتا  بچہ کرے یا بڑا آدمی کرے اور وہ   جسم یا کپڑے پر لگ جائے   تو دیکھا جائے گا (۱) اگر قے جسم دار ہو تو وزن کے اعتبار سے ساڑھے چار ماشے  4.35 گرام سے زائد ہو تو نماز سے پہلے اس کو پاک کرنا ضروری ہے ورنہ نماز نہ ہوگی  اور اگر ساڑھے  چار ماشہ  یا اس سے کم ہو تو نماز ہوجائے گہ لیکن بلا کسی مجبوری کے اس کو زائل نہ کرے اور اس کے سمیت نماز پڑھے تو برابری کی صورت میں  مکروہ تحریمی ہے اور نماز کا  لوٹانا واجب ہے جبکہ کمی کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہے ۔(۲)  اور اگر  قے پتلی اور بہنے والی ہو تو  پھیلاؤ میں ایک درہم(5.94 مربع  سم)  کے رقبے سے زائد ہو تو نماز سے پہلے پاک کرنا ضروری ہے ورنہ نماز نہ ہوگی۔ اور اگر اس کے برابر یا اس سے کم ہو  تو نماز ہوجائے گی لیکن بلا کسی مجبوری کے اس کو زائل نہ کرے اور اس کے سمیت نماز پڑھے تو برابری کی صورت میں مکروہ تحریمی ہے اور نماز کا لوٹانا واجب ہے جبکہ کمی  کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہے۔

3۔ اگر قے منہ بھر کر ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

شامی (1/289) میں ہے:

(و) ينقضه (قيء ملأ فاه) بأن يضبط بتكلف (من مرة) بالكسر: أي صفراء (أو علق) أي سوداء؛ وأما العلق النازل من الرأس فغير ناقض (أو طعام أو ماء) إذا وصل إلى معدته وإن لم يستقر وهو نجس مغلظ، ولو من صبي ساعة ارتضاعه، هو الصحيح لمخالطة النجاسة، ذكره الحلبي

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص: 155) میں ہے:

“‌وما ‌ينقض ‌الوضوء بخروجه من بدن الإنسان” كالدم السائل والمني والمذي والودي والاستحاضة والحيض والنفاس والقيء ملء الفم ونجاستها غليظة بالاتفاق لعدم معارض دليل نجاستها عنده ولعدم مساغ الاجتهاد في طهارتها عندهما ….. “‌وعفي ‌قدر ‌الدرهم” وزنا في المتجسدة وهو عشرون قيراطا ومساحة في المائعة وهو قدر مقعر الكف داخل مفاصل الأصابع كما وفقه الهندواني وهو الصحيح فذلك عفو “من” النجاسة “المغلظة” فلا يعفى عنها إذا زادت على الدرهم مع القدرة على الإزالة “

فتاویٰ محمودیہ (5/298) میں ہے:

چھوٹا بچہ جب قے کرے تو اس کے منہ کا اعتبار ہوگا اگر منہ بھر کے ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو بڑے آدمی کے منہ بھر کے قے کرنے کا حکم ہے جسم یا کپڑے پرلگ  جائے تو وہ ناپاک ہے اس کا پاک کرنا ضروری ہے اگر وہ مقدار درہم ہو تو نماز سے پہلے اس کو پاک کرنا ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved