- فتوی نمبر: 26-149
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کی شرطوں کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ہماری مسجد میں قبلہ کی سمت میں فرق ہے جس کے اندر قبلہ عین سے 15 ڈگری بائیں طرف مسجد کا رخ ہے اگر ہم اس کو درست کریں تو مسجد کے صفوں کی تعداد پانچ ہے دو صفیں بالکل ختم ہو جاتی ہے ۔ مسجد کی 43 فٹ لمبائی 22 فٹ چوڑائی ہے تو تقریباً ایک کونے سے دوسرے کونے میں 8 فٹ کا فرق آتا ہے اس وجہ سے دو صفیں بالکل ختم ہوتی ہیں اور تیسری صف پر بھی اثر پڑتا ہے ۔ مسجد بناتے وقت یہی سمجھا گیا تھا کہ یہ عین قبلہ ہے لیکن اب دوسرے ذرائع سے معلوم کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ مسجد قبلہ سے 15 ڈگری سے منحرف ہے اور یہ مسجد کافی پرانی ہے۔اس میں علمائے کرام جو رائے دیں گے انشاءاللہ ہم اس پر عمل کریں گے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مسجد کو جس حالت میں ہے اسی حالت میں چھوڑ دیں تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ قبلہ سے 15 ڈگری کا انحراف قلیل ہے اس سے نماز صحیح ہو جائے گی۔
مسائل بہشتی زیور (139,140/1) میں ہے:
جو شخص بیت اللہ شریف کے سامنے ہو اس کے لیے عین کعبہ کا استقبال فرض ہے اور جو اس سے غائب ہو اس کے ذمہ جہت کعبہ کا استقبال ہے عین کعبہ کا نہیں ۔جہت قبلہ کے استقبال کا مطلب یہ ہے کہ ایک خط مستقیم ہو جو کعبہ پر گزرتا ہوا جنوب و شمال کی سمت میں ہو اور نمازی کے وسط پیشانی سے ایک خط مستقیم نکل کر اس پہلے خط سے اس طرح تقاطع کرے(یعنی اس طرح دونوں ایک دوسرے کو کاٹیں ) کہ اس سے تقاطع کے موقع پر دو زاویہ قائمہ بن جائیں ۔ وہ قبلہ مستقیم ہے۔ اور اگر نمازی اتنا منحرف ہو کہ اس کی وسط پیشانی سے نکلنے والا خط تقاطع کرکے زاویہ قائمہ پیدا نہ کرے بلکہ حادہ (Acute) یا منفرجہ (Obtuse) پیدا کرے لیکن وسط پیشانی کو چھوڑ کر پیشانی کے اطراف میں کسی طرف سے نکلنے والا خط زاویہ قائمہ پیدا کردے تو وہ انحراف قلیل ہے اس سے نماز صحیح ہو جائے گی۔ اور اگر پیشانی کی کسی طرف سے بھی ایسا خط نہ نکل سکے جو خط مذکورہ پر زاویہ قائمہ پیدا کردے تو وہ انحراف کثیر ہے اس سے نماز نہ ہوگی۔ اور علمائے ہیئت و ریاضی نے قلیل و کثیر انحراف کی تعیین اس طرح کی ہے کہ پینتالیس درجہ تک انحراف ہو تو قلیل ہے اس سے زائد ہو تو کثیر اور مفسد نماز ہے۔اس کی آسان تعبیر یہ ہے کہ انسان کے چہرہ کا کوئی ذرا سا ادنیٰ حصہ خواہ وسط چہرہ ہو یا دائیں بائیں جانب کا، بیت اللہ کے کسی ذرا سے حصے کے ساتھ مقابل ہو جائے اور فن ریاضی کی اصطلاحی عبارت میں یہ ہے کہ عین کعبہ سے پینتالیس درجہ تک بھی انحراف ہو جائے تو استقبال فوت نہیں ہوتا اور نماز صحیح ہو جاتی ہے۔ اس سے زائد انحراف ہو تو استقبال فوت ہو جاتا ہے اور نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved