- فتوی نمبر: 31-302
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز پڑھنے کا طریقہ
استفتاء
میراسوال یہ ہے کہ نماز میں جو ایک رکن کی مقدار بیان کی جاتی ہے اس سے کیا مراد ہے؟تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار مراد ہے یا تین مرتبہ سبحان ربی العظیم کہنے کی مقدار مراد ہے؟
تنقیح:اصل میں مجھے ایک عالم نے کہا تھا کہ رکوع اور سجدے وغیرہ میں ایک رکن کی مقدار ٹھہرنا ضروری ہے اور ایک رکن کی مقدار تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر ہےلیکن اب مجھے ایک عالم نے کہا کہ ایک رکن کی مقدار ایک مرتبہ سبحان ربی العظیم کہنے کے بقدر ہے اس لیے آپ سے تحقیق کرنا چاہتا ہوں
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
رکوع اور سجدے میں ایک رکن کی مقدار ٹھہرنا واجب نہیں بلکہ ایک تسبیح کے بقدر ٹھہرنا واجب ہے اور اس ایک تسبیح سے مراد ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنا ہے لہذا رکوع اور سجدے میں ایک مرتبہ “سبحان اللہ ” کہنے کے بقدر ٹھہرنا واجب ہے۔
شامی (1/ 464)میں ہے:
(وتعديل الأركان) أي تسكين الجوارح قدر تسبيحة في الركوع والسجود، وكذا في الرفع منهما على ما اختاره الكمال
النہر الفائق شرح کنز الدقائق (1/359) میں ہے:
(أو تسبيحة) أى قوله سبحان الله
حاشیۃ الشلبی علی ہامش تبیین الحقائق (1/220) میں ہے:
قوله فى المتن (أو تسبيحة) أى قوله سبحان الله
عمدۃالفقہ (2/99) میں ہے:
تعدیل ارکان یعنی رکوع ،سجدہ وقومہ وجلسہ کواطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا واجب ہے یہی صحیح ہے تعدیل ارکان اعضاء کے ایسے سکون کو کہتے ہیں کہ انکے سب جوڑ کم از کم ایک تسبیح( سبحان اللہ ) کی مقدار ٹھہرجائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved