• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رش کی صورت میں استلام کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

استفتاء

اگر طواف کے پہلے چکر میں حجرِ اسود کی طرف پورا رخ کر کے استلام کے بعد طواف شروع کیا جائے،مگر دوسرے سے ساتویں چکر کے دوران رش کی وجہ سے حجرِ اسود کے سیدھ میں آ کر اور پورا رخ کر کے استلام نہ ہو سکے، تو پھر استلام کا طریقہ کیا ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

استلام حجر اسود کو ہاتھ لگانے اور چومنے کو کہتے ہیں اگر مذکورہ طریقے سے استلام ممکن نہ ہو تو پھر ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز مثلا لاٹھی وغیرہ کو حجر اسود کے ساتھ لگا کر چومنے سے یا حجر اسود کی طرف ہاتھ پھیلا کر  ہاتھوں کو چومنے سے بھی استلام ادا ہو جائے گا ۔ اگر رش کی وجہ سے حجر اسود کا استلام کسی بھی طریقے سےنہ ہو سکے تو  استلام کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔

المبسوط للسرخسی (4/46) میں ہے:

(‌قال) ‌وترك ‌الرمل في طواف الحج والعمرة والسعي في بطن الوادي بين الصفا والمروة لا يوجب عليه شيئا غير أنه مسيء إذا كان لغير عذر، وكذلك ترك استلام الحجر فالرمل واستلام الحجر، وهذه الخلال من آداب الطواف أو من السنن، وترك ما هو سنة أو أدب لا يوجب شيئا إلا الإساءة إذا تعمد

بدائع الصنائع (3/115)  میں ہے:

‌ويستلم ‌الحجر في كل شوط يفتتح به إن استطاع من غير أن يؤذي أحدا لما روي «أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – كان كلما مر بالحجر الأسود استلمه» ، ولأن كل شوط طواف على حدة فكان استلام الحجر فيه مسنونا كالشوط الأول، وإن لم يستطع استقبله وكبر وهلل

وفيه أيضا: وكلما ‌مر ‌بالحجر في الطواف يستلمه إن استطاع من غير أن يؤذي أحدا، وإن لم يستطع يستقبل الحجر ويكبر ويهلل كذا في فتاوى قاضي خان ويختم الطواف بالاستلام كذا في الهداية وإن افتتح الطواف باستلام الحجر وختم به وترك الاستلام فيما بين ذلك أجزأه، وإذا ترك رأسا فقد أساء كذا في شرح الطحاوي

مسائل  بہشتی زیور (1/450) میں ہے:

ہجوم کی وجہ سے اگر حجر اسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا ممکن نہ ہو تو لکڑی وغیرہ سےحجر اسود کو چھوئے اور اس لکڑی کو بوسہ دے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں کو حجراسود کی طرف اس طرح کرے کی ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کی طرف رہے اور یہ نیت کرے کہ حجر اسود پر رکھی ہیں اور تکبیر و تہلیل کہے  اور ہتھیلیوں کو بوسہ دے لے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved