- فتوی نمبر: 26-348
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
بیوی کا بیان:
میرے شوہر زید اور میں ہم دونوں غصے میں تھے، میں نے غصے میں اپنے شوہر کو کہا کہ مجھے طلاق دے دو، تو اس نے میری بچی کو جو کہ 12 سال کی ہے کہا کہ پیپر اور پین لے آؤ، جب وہ لے آئی تو کہا کہ تم لکھ دو میں دستخط کر دیتا ہوں، میں نے لکھ دیا تو اس نے ایک بار دستخط کر دیا، پھر بچی نے پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ ماما نے تین دفعہ طلاق کا لکھا ہے، پھر میرے شوہر نے مزید دو مرتبہ دستخط کردیے، یہ واقعہ 19-03-2022کو ہوا، ہمیں اس کے بارے میں تحریری فتوی عنایت فرمائیں۔
شوہر کا بیان:
میرا اور میری بیوی کا کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، بیوی نے کہا کہ مجھے طلاق دے دو تو میں نے کہا کہ مجھے لکھ دو، میں سائن کر دیتا ہوں، ایسا میں نے اس لیے کہا تھا کیونکہ میں میری نظر کمزور ہے اور میں عینک کے بغیر نہ لکھ سکتا ہوں نہ پڑھ سکتا ہوں، اس نے غصے میں آ کر طلاق لکھ دی اور میں نے غصے میں آکر دستخط کر دیے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ کتنی طلاقیں لکھی ہیں، میرا گمان یہ تھا کہ ایک طلاق لکھی ہو گی، جب میری بیٹی نے دیکھا تو مجھے پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ ماما نے تین طلاقیں لکھی ہیں تو میں نے دو اور دستخط کر دیے، میری طلاق کی نیت نہیں تھی، غصے میں مجھ سے یہ سب ہو گیا، اب اس صورتحال میں طلاق ہو گئی ہے یا نہیں ہوئی؟
طلاق کی تحریر :
زید ولد خالد میں اپنے پورے ہوش حواس میں اپنی بیوی زینب ولد خالد کو ’’طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘
دستخط شوہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (تین مرتبہ)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں سادہ کاغذ پر لکھی طلاق کی تحریر کتابت مستبینہ غیرمرسومہ ہے اور کتابت مستبینہ غیرمرسومہ سے شوہر کی طلاق کی نیت ہو یا شوہر نے غصہ یا مذاکرہ طلاق میں طلاق لکھی ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے، مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی لیکن چونکہ شوہر نےمذاکرہ طلاق کی حالت میں مذکورہ تحریر پر دستخط کیے ہیں، اور دوسری مرتبہ دستخط کرتے وقت اسے معلوم تھا کہ اس تحریر میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ مستبینہ غیر مرسومہ طلاق اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے صریح ہے مگر کتابت اور پھر غیر مرسومہ ہونے کی وجہ سے نیت کے حق میں ملحق بالکنایہ ہے جس سے نیت کے ساتھ تو طلاق ہو جاتی ہے لیکن دلالت حال معتبر ہوگی یا نہ ہوگی؟ اس بارے میں کوئی صریح جزئیہ نہیں ملا مگر درج ذیل جزئیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دلالت حال معتبر ہوگی، کیونکہ ان جزئیات میں موجود الفاظ بھی نہ تو صریح ہیں اور نہ کنایہ ہیں، اپنے مادے کے لحاظ سے صریح ہیں اور صورت کے لحاظ سے صریح نہیں ہیں۔ اسی طرح ہمارے زیر نظر طلاق مستبین غیر مرسوم میں الفاظ صریح ہیں مگر طریقہ غیر مرسوم ہے اس لیے یہ بھی اسی فہرست میں شامل ہونا چاہیے اور یہاں بھی دلالت حال معتبر ہونی چاہیے۔
فتح القدیر(4/60)میں ہے:
وأما طال بلا قاف فأطلق بعضهم الوقوع به وفصل بعضهم فقال مع إسكان اللام يحتاج الى النية ومع كسرها يقع بلا نية والوجه إطلاق التوقف علي النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين، هذا في حالة الرضا وعدم مذاكرة الطلاق، أما في أحدهما فيقع قضاء أسكنها أو لا۔
درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:
وكذا يا طال بكسر اللام وضمها لأنه ترخيم أو أنت طال بالكسر وإلا توقف على النية،
(قوله وإلا توقف على النية) أي وإن لم يكسر اللام في غير المنادى توقف الوقوع على نية الطلاق: أي أو ما في حكمها كالمذاكرة والغضب كما في الخانية. وفي كنايات الفتح أن الوجه إطلاق التوقف على النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا بالاتفاق لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء، فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين إلا عند الغضب أو مذاكرة الطلاق فيقع قضاء أسكنها أو لا، وتمامه فيه.
درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:
(و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة، فلا يرد وقوع الرجعي ببعض الكنايات أيضا نحو: أنا بريء من طلاقك وخليت سبيل طلاقك وأنت مطلقة بالتخفيف، وأنت أطلق من امرأة فلان، وهي مطلقة، وأنت ط ا ل ق وغير ذلك مما صرحوا به………….(البائن إن نواها أو الثنتين)
(قوله بالتخفيف) أي تخفيف اللام، أما بالتشديد فهو صريح يقع به بلا نية كما مرفي بابه ……………..(قوله وأنت ط ل ق) قدمنا في باب الصريح عن الذخيرة تعليله بأن هذه الحروف يفهم منها ما هو المفهوم من صريح الكلام إلا أنها لا تستعمل كذلك، فصارت كالكناية في الافتقار إلى النية.
فتاوی شامی (442/4) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved