• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سگی بیٹی سے زنا کا حکم

استفتاء

اگر کوئی بدبخت اپنی سگی بیٹی سے منہ کالا کرلے تو اس کا نکاح باقی رہے گا یا ٹوٹ جائے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ٹوٹ جائے گا(یعنی فاسد ہو جائے گا، جس کا توڑنا میاں بیوی پر واجب ہوگا)

توجیہ:حرمتِ مصاہرت سے نکاح ٹوٹتا نہیں، بلکہ فاسد ہو جاتا ہے اور عام حالات میں  اسے ختم کرنا واجب ہے۔ اور ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر حرمتِ مصاہرت قبلِ الدخول ہوئی ہو تو اسے میاں بیوی میں سے ہر ایک قولاً یا فعلاً ختم کر سکتا ہے۔ قولاً کی صورت یہ ہے کہ میاں یا بیوی یہ کہہ دے کہ”میں نے تمہیں چھوڑ دیا”  یا “میں نے تمہیں آزاد کر دیا” اور فعلاً کی صورت یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوبارہ نہ لوٹنے کے عزم کے ساتھ دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لے۔ اور اگر حرمتِ مصاہرت بعدَ الدخول  ہوئی ہو تو اسے میاں بیوی میں سے ہر ایک قولاً تو ختم کر سکتا ہے، فعلاً ختم نہیں کر سکتا، اور قولاً ختم کرنے کی صورت وہی ہے جو اوپر ذکر کی گئی ہے۔مذکورہ صورت میں چونکہ حرمت مصاہرت بعد الدخول ہوئی ہے اس لیے مذکورہ صورت میں اس نکاح کو صرف قولاً ختم کیا جاسکتا ہے۔

التجرید للقدوری (9/449) میں ہے:

«قال أصحابنا: الزنا يتعلق به تحريم المصاهرة فإذا زنا بامرأة حرمت عليه أمها وبنتها، وإذا زنا بأم امرأته أو بنتها وقعت الفرقة بينه وبين امرأته.»

اعلاء السنن (11/34) میں ہے:

وعن ابن جريج سمعت عطاء يقول:  اذا زنى رجل بام امراته او بنتها حرمتا عليه جميعا

شامی (4/120) میں ہے:

«وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة،»

«(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.

وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها.

وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم.»

شامی (4/267) میں ہے:

(و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجاً عن المعصية فلا ينافي وجوبه،بل يجب على القاضي التفريق بينهما… قوله (فلا ينافي وجوبه) قال في النهر: وقول الزيلعي ولكل منهما فسخه بغير ‌محضر من صاحبه لا يريد به عدم الوجوب، إذ لا شك في أنه خروج من المعصية والخروج منها واجب بل إفادة أنه أمر ثابت له وحده. اهـ. ح وضمير ينافي لتعبير المصنف باللام في قوله ولكل، وضمير وحده لكل أي يثبت لكل منهما وحده.(قوله بل يجب على القاضي) أي:إن لم يتفرقا.

فقہ اسلامی (ص:49) میں ہے:

اگر کوئی واقعہ ایسا ہو جائے تو عورت کو بھی لازم ہے کہ اپنے خاوند کے پاس ہرگز نہ رہے اور مرد کے ذمے بھی واجب ہے کہ  فوراً اس عورت کو(یعنی اپنی بیوی کو) الگ کر دے…..

لیکن اگر خاوند بددینی اختیار کرے اور عورت کو الگ نہ کرے تو جس طرح ممکن ہو عورت کو اس کے پاس سے چلے جانا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے ساتھ  میاں بیوی کا تعلق رکھنا حرام ہو چکا۔مگر جب تک شوہر زبان سے نہ کہہ دے کہ میں نے الگ کر دیا ہے یا چھوڑ دیا ہے یا طلاق دے دی ہے یا قاضی تفریق نہ کر دے اس وقت تک دوسری جگہ اس عورت کا نکاح درست نہیں ہو سکتا۔لہذا عورت یا تو کسی مسلمان جج کی عدالت سے تفریق کا حکم حاصل کرے اور اگر عدالت ایسا حکم جاری نہ کرتی ہو تو تین ذمہ دار آدمیوں کی پنچائیت سے کہ جس میں کم از کم ایک باصلاحیت اور پختہ عالم ہو تفریق کا حکم حاصل کر لے۔

فقہ اسلامی (ص:49) میں ہے:

مرد اگر اپنی بیوی کی بیٹی سے خواہ وہ اس کی اپنی ہو یا  سوتیلی ہو زنا کر بیٹھے تو سزا کے طور پر اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی۔

فقہ اسلامی (ص:49) میں ہے:

حرمت مصاہرت سے بیوی حرام ہو جاتی ہے لیکن محض اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ فاسد  ہو جاتا ہے اور نکاح فاسد ختم کرنے کے لیے یا تو قاضی وجج دونوں کے درمیان تفریق کر دے یا  شوہر اپنی زبان سے کہے کہ میں نے اس کو چھوڑا یا میں نے اس کو طلاق دی۔

حیلہ ناجزہ (ص:85) میں ہے:

وأما ما ذكر فی عدة رد المحتار ومثله في البحر: من أن المتاركة كما تكون من الزوج كذلك تكون من الزوجة، فهو مختص بما إذا كانت الحرمة أصلية لا طاریة، كما إذا نكحت المرأة بمن ثبت به حرمة المصاهرة بالرضاع قبل النكاح، فيجب على كل من الزوجين فسخه، وكل واحد منهما مستقل في هذه المتاركة، ولا كذلك في الحرمة الطارية بعد النكاح، فإن المتاركة فيه لا تتحقق إلا من الزوج أو بتفريق القاضي

إمداد الأحكام (2/768) میں ہے:

بیٹی کے ساتھ زنا کرنے سے اس کی ماں مرد پر حرام ہو گئی، اب اس سے وطی اور جماع جائز نہیں۔ باقی نکاح بدون فسخ قاضی یا متارکت احد الزوجین کے نہیں ٹوٹتا، اور متارکت کے معنی یہ ہیں کہ طلاق دے دے یا مرد و عورت میں سے کوئی یہ کہہ دے کہ میں تجھ سے علاقہ نہیں رکھنا چاہتا۔ سو جب تک تفریق قاضی یا متارکت کا تحقق نہ ہو نکاح نہیں ٹوٹتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved