- فتوی نمبر: 36-251
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > پردے کا بیان
استفتاء
گلیوں میں جو عورتیں چیزیں بیچتی ہیں ان سے لینا صحیح ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: (1) کیا چیزیں بیچتی ہیں؟(2) آپ کو اس میں کیا تردد ہے؟
جواب وضاحت: (1)سرف ، مکرونی ، گفٹ وغیرہ مختلف چیزیں بیچتی ہیں۔(2) اس لیے پوچھ رہے ہیں ہمیں ان سے لینے سے گناہ تو نہیں ہو گا یہ بے پردہ چیزیں بیچ رہی ہیں ان کو اور ترقی ملے گی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ان سے چیزیں خریدنا جائز ہے ان کی بے پردگی کا گناہ آپ کو نہیں ہوگا البتہ آپ اپنے طور پر پردے کا اہتمام کریں۔
المبسوط للسرخسی (10/262) میں ہے:
ويجب على الرجال غض البصر عنها في جميع الاحوال الا لغرض صحيح شرعي وهو حالة الشهادة والمداواة وخطبتها أو شراء الجارية أو المعاملة بالبيع والشراء وغيرهما ونحو ذلك وإنما يباح في جميع هذا قدر الحاجة دون ما زاد
فتاویٰ عثمانی (4/402) میں ہے:
سوال: بے پرده عورتوں کیساتھ کام کرتے وقت اپنی نگاہیں نیچی رکھنا اس زمانے میں کسی ولی اللہ کا ہی کام ہوسکتا ہے، یہی شکل ان بازاروں میں بھی پیش آتی ہے جہاں سینکڑوں عیسائی عورتیں گھومتی پھرتی ہیں کیا ایسی عورتیں مندرجہ ذیل حوالے کی رو سے مرد کی جنس میں تصور نہیں ہوں گی” باپردہ مسلمان عورتوں کو بے پردہ عورتوں سے بھی اس طرح پردہ کرنا چاہے”
جواب: قصد کرکے بلا ضرورت دیکھنا تو جائز نہیں کاروبار اور لین دین ، گفت وشنید کے ضمن میں جو نظر پڑتی ہے اگر دل میں کوئی خيال فاسد نہ ہو تو وہ معاف ہے اور دل میں خیالات خراب ہوں تو وہ بھی جائز نہیں بہر حال مجبوری کی حالت میں اپنا کام کریں جہاں تک ممکن ہو غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے سے اجتناب کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved