- فتوی نمبر: 32-150
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
میری بیوی کہتی ہے کہ آپ کے والد نے 15 سال پہلے مجھ سے ہمبستری کی تھی، اور یہ واقعہ ہماری شادی کے بعد پیش آیا ہے۔ 6 سال پہلے میرے والد فوت ہوگئے ہیں کیا اب ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت مطلوب ہے: (1) آپ کا غالب گمان کیا ہے کہ آپ کی بیوی سچ بول رہی ہے یا جھوٹ؟ (2) بیوی نے اتنے عرصے تک اس بات کو کیوں چھپائے رکھا؟ (3) کیا آپ کی بیوی مذکورہ بات پر قرآن اور قسم اٹھانے کے لیے تیار ہے؟
جواب وضاحت: (1) میرا غالب گمان یہ ہے کہ میری بیوی سچ بول رہی ہے۔ (2) گھر خراب ہونے کے ڈر سے یہ بات چھپا لی تھی۔ (3) میری بیوی اس بات پر قسم اور قرآن اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں فقہ حنفی کے عام ضابطے کی رو سے تو بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، البتہ موجودہ دور میں بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں بیوی شوہر پر حرام نہ ہو گی اور بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے،اس کی تفصیل ’’فقہ اسلامی‘‘ مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب میں ہےلہٰذا سائل اپنے مخصوص حالات کے پیشِ نظر اس رائے پر عمل کرنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔
فتح القدیر (3/213)میں ہے:
وثبوت الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها. وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها: لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه. ثم رأيت عن أبي يوسف أنه ذكر في الأمالي ما يفيد ذلك، قال: امرأة قبلت ابن زوجها وقالت كان عن شهوة، إن كذبها الزوج لا يفرق بينهما، ولو صدقها وقعت الفرقة.
عالمگیری (1/276) میں ہے:
رجل تزوج امرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها: من افتضك؟. فقالت: أبوك إن صدقها الزوج؛ بانت منه ولا مهر لها وإن كذبها فهي امرأته، كذا في الظهيرية.
حیلہ ناجزہ (88) میں ہے:
’’جب عورت دعویٰ کرے کہ میرے اور خاوند کے اصول و فروع میں سے فلاں مرد کے درمیان یا خاوند اور میرے اصول و فروع میں سے فلاں عورت کے درمیان ایسا ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو حرمت مصاہرت کا موجب ہے لہذا مجھ کو میرے خاوند سے الگ کردیا جائے تو قاضی یا اس کا قائم مقام اولا شوہر سے بیان لے، اگر اس نے عورت کے بیان کی تصدیق کر دی تب تو تفریق کا حکم کر دیا جائے اور اگر خاوند نے اس کے دعوی کی تصدیق نہ کی تو عورت سے گواہ طلب کیے جائیں اگر گواہ پیش نہ ہوں یا ان میں شرائط شہادت موجود نہ ہوں تو خاوند سے حلف لیا جائے اگر وہ حلف کرلے تو مقدمہ خارج کر دیا جائے،یعنی نہ تفریق کی جائے اور نہ یہ حکم کیا جائے کہ عورت بدستور شوہر کے ساتھ رہے، اور اگر وہ حلف سے انکار کر دے تو تفریق کر دی جائے۔
حیلہ ناجزہ(90) میں ہے:
وأما توجيه اليمين فظاهر للقاعدة المقررة من أن قول المنكر انما يعتبر مع اليمين ونص عليه الفقهاء فى باب الرضاع وحرمة المصاهرة نظير حرمة الرضاع.
فقہ اسلامی (34) میں ہے:
چند اور احکام جو بدلے ہوئے حالات میں فقہ حنفی ہی کی رو سے معلوم ہوتے ہیں:
2۔ مرد اگر اپنی بہو سے جماع یا دواعی جماع کر لے تو وہ بہو کی ماں سے کبھی نکاح نہیں کر سکتا، البتہ بہو بیٹے کا نکاح باقی رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved