- فتوی نمبر: 31-296
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
منت ماننے کی شرطیں :
منت ماننے کی چند شرطیں ہیں:
۱۔اللہ تعالیٰ کے نام کی منت مانی جائے غیر اللہ کے نام کی منت جائز نہیں بلکہ گناہ ہے۔
۲۔منت صرف عبادت کے کام کی صحیح ہے، جو کام عبادت نہیں ہے اس کی منت بھی صحیح نہیں۔
۳۔عبادت بھی ایسی ہو کہ اس طرح کی عبادت کبھی فرض یا واجب ہوئی ہو جیسے نماز ، روزہ ،حج ، زکوٰۃ، قربانی وغیرہ ۔ایسی عبادت کہ اس کی جنس سے کبھی فرض واجب نہیں اس کی منت بھی صحیح نہیں چنانچہ قرآن خوانی کی منت ہو تو لازم نہیں ہوتی۔(بکھرے موتی جلد اول بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل)
منت ماننے کی یہ صورتیں ہیں تو کیا سوا لاکھ درود خضر کی منت ماننا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے کہ درود خضر کے الفاظ لکھ کر بھیجیں۔
جواب وضاحت : صلي الله على حبيبه سيدنا محمد واٰ له واصحابه وسلم
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوا لاکھ درودخضر کی منت ماننا جائز ہے کیونکہ زندگی میں ایک مرتبہ آپﷺ پر درود پڑھنا واجب ہے اور درود شریف پڑھنا عبادت بھی ہے۔ تاہم اس منت کو پورا کرنے کے لیے درود خضر پڑھنا ضروری نہیں کوئی بھی درود پڑھنے سے یہ منت پوری ہوجائے گی۔
امداد الفتاویٰ (550/2) میں ہے:
سوال: درود شریف کی نذر منعقد ہوتی ہے یا نہیں ؟
الجواب: في الدرالمختار: ولونذر أن یصلی علی النبی ﷺ کل یوم کذا لزمه وقیل: لا۔
وفي رد المحتار: قوله: لزمه لأن من جنسه فرضاً (إلى قوله) قال: ومنه یعلم أنه لایشترط کون الفرض قطعیاً، قوله وقیل: لا، لعل وجهه اشتراط کون الفرض قطعیا ح (قلت والأحوط الأول)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved