- فتوی نمبر: 36-37
- تاریخ: 08 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > وضوء کا بیان
استفتاء
1۔کیا شرمگاہ کو بغیر کسی حائل کے چھو نے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
2۔ شرمگاہ کی حدود کی وضاحت کردیں کہ کونسے حصے کو چھو لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔شرمگاہ کو بغیر حائل چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا چاہے کوئی بھی حصہ ہو۔
2۔مرد کی شرمگاہ سے مراد صرف عضو تناسل اور حلقۂ دبر (پاخانے کا مقام) ہے لہذا خصتیں،زیر ناف بالوں کی جگہ، دبراور خصیتین کے درمیان کی جگہ شرمگاہ میں شامل نہیں۔ عورت کی شرمگاہ سے مراد منفذ کے پاس دو کھالوں کے ملنے کی جگہ اور حلقہ دبر ہے۔ اس کے علاوہ کی جگہ مراد نہیں۔
مسند احمد (رقم الحدیث:16286) میں ہے:
عن قيس بن طلق، عن أبيه قال: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم أيتوضأ أحدنا إذا مس ذكره؟ قال: ” إنما هو بضعة منك أو جسدك “
ہندیہ (1/13) میں ہے:
مس ذكره أو ذكر غيره ليس بحدث عندنا.
المبسوط للسرخسی (1/66) میں ہے:
قال (وكذلك إن مس ذكره بعد الوضوء فلا وضوء عليه، وهذا عندنا)
عجالۃ المحتاج (1/ 78) میں ہے:
الرابع: مس قبل الآدمي ببطن الكف، لقوله صلى الله عليه وسلم [إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه؛ وليس بينهما ستر ولا حجاب فليتوضأ] رواه ابن حبان، والإفضاء لا يكون إلا بباطن الكف، كما قاله أهل اللغة، والمراد بباطن الكف الراحة مع بطون الأصابع، والمراد بقبل المرأة كما قاله الإمام: ملتقى الشفرين على المنفذ، وكذا في الجديد حلقة دبره؛ لأنه أحد السبيلين فأشبه القبل، والقديم: أنه لا ينقض؛ لأنه لا يلتذ بمسه، ولا ينتقض بمس العانة والانثيين والإليتين وما بين القبل والدبر؛ لأنه لا يسمى فرجا.
النجم الوھاج فی شرح المنہاج (1/ 274) میں ہے:
«(الرابع: مس قبل الآدمي) أي: جزء منه، من نفسه أو غيره»
کشف القناع عن متن الاقناع (1/113) میں ہے:
(الرابع) من نواقض الوضوء (مس ذكر آدمى إلى اصول الإنثيين مطلقا)
آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/48) میں ہے:
سوال: حدیث پاک نظروں سے گزری کہ ذکر کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یعنی نماز میں یا ویسے قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت چھولے اس بارے میں ضرور آگاہ کریں ۔
جواب: شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ حدیث میں وضو کا حکم یا تو استحباب کے طور پر ہے یا لغوی وضو یعنی ہاتھ دھونے پر محمول ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved