• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شرکت کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

ہم دو ساتھیوں نے عقد شرکت کیا تھا، دونوں کی طرف سے  50,50 ہزار روپے سرمایہ تھا اور یہ طے ہوا تھا کہ دونوں کام کریں گے عید کے دنوں میں جانوروں کا چارہ لانا اس کو کاٹنا اور بیچنا یہ کام تھا، نفع آدھا آدھا تقسیم ہونا طے ہوا تھا اور ہم نے اس سرمایہ سے  چارہ  کاٹنے کی مشین خریدی تھی طے یہ ہوا تھا کہ کام ختم ہونے کے بعد اس مشین کو بازار کی قیمتِ فروخت  پر فروخت کر کے اس کی قیمت آدھی آدھی تقسیم ہوگی نیز یہ مشین جس میٹر پر چلے گی اور جو بل آئے گا وہ نفع تقسیم ہونے سے پہلے ادا کیا جائے گا۔

اس تفصیل کے بعد عرض ہے کہ میرے دوسرے ساتھی نے دوران کام میرے ساتھ تعاون نہیں کیا کیونکہ ہم نے طے کیا تھا کہ صبح 6بجے سے صبح 11 بجے تک میرا ساتھی کام کرے گا پھر4 بجے کے بعد سے رات 10 بجے تک ہم دونوں اکٹھے کام کریں گے لیکن عید سے پہلے کے  چار پانچ دنوں میں چونکہ کام زیادہ ہوتا ہے اس لیے دونوں ساتھی پورا پورا دن کام کریں گے اس معاہدے پر میرے ساتھی نے عمل نہیں کیا یعنی اس نے آخر میں  کام کی تیزی کے دنوں میں پورا وقت نہیں دیا  وہ اپنا پرانا وقت  صبح 6 سے 11 اور شام 4 سے 10 بجے تک  ہی دیتا تھا۔

نیز میرے ذمے بہت زیادہ کام تھا اس وجہ سے آپس میں ناراضگی ہو گئی اور میں نے کہا کہ تم نے اب کام نہیں کرنا اور شرکت ختم کر دیں اس نے اس پر انکار کیا، خیر آخر  میں نے زور ڈال کر  عید سے تین دن پہلے شرکت ختم کر دی اور اس ساتھی کو درج ذیل چیزیں دیں:

1۔اس وقت تک جتنا راس المال چارہ کی صورت میں تھا اس کی موجودہ قیمت خرید لگا کر آدھی   قیمت اس کو دے دی۔

2۔اس وقت جتنا نفع ہوا تھا آدھا اس کو دے دیا۔

3۔ طے یہ ہوا تھا کہ کام ختم ہونے کے بعد مشین فروخت کرکے جو قیمت فروخت ہوگی اس کو آدھا  آدھا تقسیم کریں گے لیکن میرا ساتھی اس پر راضی نہیں ہوا اس لیے مشین کی قیمت خرید کا آدھا اس کو دیا۔

4۔ مشین کا بل دینے سے وہ انکاری ہو گیا سارا بل میرے ذمے ہو گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ :

1۔کیا اس طرح شرکت ختم کرنے سے میں گنہگار تو نہیں ہوا؟

2۔ نیز میرے ذمے اس شریک  کا کچھ حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟

3۔یا اس کے ذمے میرا حصہ بنتا ہے؟رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں شرکت ختم کرنے سے آپ گناہ گار نہیں ہوئے۔

2۔مذکورہ صورت میں آپ کے ذمے اس شریک کا کچھ حصہ نہیں بنتا۔

3۔ جتنا بل شرکت ختم کرنے سے پہلے  واجب الاداء ہوگیا تھا  اس کا آدھا آپ کے شریک کے ذمے آپ کا بنتا ہے۔

نوٹ: دارالافتاء کی طرف سے فریق ثانی سے متعدد بار بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا گیا اس کے باوجود وہ اپنا بیان دینے پر آمادہ  نہیں ہوا  اس لیے بأمر مجبوری ایک فریق کے بیان پر جواب جاری کیا  جاتا ہے۔

بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع (6/ 77) میں ہے:

«لأن الربح إذا انقسم ‌على ‌قدر ‌الضمان كانت الوضيعة ‌على ‌قدر ‌الضمان أيضا؛ لأنه لا يجوز اشتراط زيادة الضمان في الوضيعة في موضع يجوز اشتراط زيادة الربح فيه لأحدهما، وهو الشركة بالأموال حتى لا تكون الوضيعة فيها إلا بقدر المال في موضع لا يجوز اشتراط زيادة الربح فيه لأحدهما، فلأن لا يجوز أن تكون الوضيعة فيه إلا ‌على ‌قدر ‌الضمان أولى. (وأما) المفاوضة منهما فما لزم أحدهما بسبب هذه الشركة، يلزم صاحبه، ويطالب به»

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام (3/370) میں ہے:

المادة (1353) – (‌تنفسخ ‌الشركة بفسخ أحد الشريكين، ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه، ولا ‌تنفسخ ‌الشركة ما لم يعلم الآخر بفسخ الشريك)

‌تنفسخ ‌الشركة بفسخ أحد الشريكين أو بإنكاره الشركة أو بقول أحدهما للآخر لا أعمل معك فإنه بمنزلة فاسختك وتنفسخ ولو كان مال الشركة موجودا في حالة العروض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved