• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر اور بہن بھائیوں کے درمیان تقسیم وراثت کی ایک صورت

استفتاء

میرا نام زید ہے۔مجھے وراثت سے متعلق سوال پوچھنا ہے۔ میری 2 بیویاں تھیں دونوں فوت ہوچکی ہیں۔ پہلی بیوی سے 2 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں۔ اور دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔پہلی بیوی کے فوت ہوجانے کے بعد دوسری شادی کی تھی۔ اب چند روز قبل دوسری بیوی کا بھی انتقال ہوگیا ہے ۔وراثت میں میری اس دوسری بیوی کا مکان ہے جو میں نے اپنی اس دوسری بیوی کو دیا تھا ۔ہم دونوں میاں بیوی علیحدہ گھر میں رہتے تھے۔ میری پہلی بیوی سے جو میری اولاد ہے سب شادی شدہ ہیں۔ اب مجھے وراثت تقسیم کرنے سے متعلق معلوم کرنا ہے 1- مرحومہ  کی کوئی اولاد نہیں ہے۔2۔مرحومہ کے 4 بھائی اور 1 بہن  ہیں ۔3۔مرحومہ کے والدین مرحومہ کی زندگی ہی  میں فوت  ہوگئے تھے۔4۔اور میں مرحومہ کا شوہر اور میری پہلی سے میرے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں ۔براہ مہربانی مجھے شریعت کے مطابق وراثت  کی تقسیم  حل  فرماکرتحریری مہر کیسا تھ عنایت فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی کے شرعی ورثاء  یہ ہیں :  شوہر (آپ ) ، 4 بھائی اور ایک بہن لہٰذا ان  کی  جائیداد کے کل 18 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 9 حصے (50 فیصد) آپ کو، 2 حصے (11.11 فیصد)بیوی کے ہر بھائی کو، جبکہ 1 حصہ   (5.55 فیصد)ان کی بہن کو ملے گا ۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

2×9=18         بیوی

شوہر 4بھائی 1بہن
2/1 عصبہ
1 1
1×9 1×9
9 2+2+2+2 1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved