- فتوی نمبر: 36-296
- تاریخ: 04 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مرحومہ زینب کا انتقال ہوگیا ہے جن کے ورثاء میں دو بیٹیاں ،خاوند ،ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں جبکہ مرحومہ کے والدین مرحومہ کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔شریعت کے مطابق ان لوگوں میں وراثت کی تقسیم کے متعلق رہنمائی فرمادیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ (زینب ) کے ترکہ کے کل کے 48 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 16،16 (33.33 فیصد فی کس)مرحومہ کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ،12 حصے (25فیصد ) مرحومہ کے خاوند کو، 2 حصے (4.16 فیصد) مرحومہ کے بھائی کو، اور1,1حصہ (2.08 فیصد فی کس) مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملےگا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
12×4=48
| شوہر | دو بیٹیاں | ایک بھائی | دو بہنیں |
| 4/1 | 3/2 | عصبہ | |
| 3 | 8 | 1 | |
| 3×4 | 8×4 | 1×4 | |
| 12 | 32 | 4 | |
| 12 | 16+16 | 2 | 1+1 |
السراجی فی المیراث (ص:33 ) میں ہے:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث : النصف للواحدة والثلثان للاثنین فصاعدة.
السراجی فی المیراث (ص:31 ) میں ہے:
وأما للزوج فحالتان :النصف عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل والربع مع الولد.
السراجی فی المیراث (ص:39 ) میں ہے:
وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس: النصف للواحدة والثلثان للاثنین فصاعدة ومع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن به عصبة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved