- فتوی نمبر: 26-173
- تاریخ: 05 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
بیٹی کا بیان:
محترم مفتی صاحب آپ سے ہم گذارش کرتے ہیں کہ ہماری باتیں ذرا غور سے پڑھیے گا، دین اسلام کے مطابق آپ ہمیں بتائیں کہ کیا ہمارے ابو صحیح ہیں یا غلط؟ ہمارے ابو پہلے میری بہن سے غلط حرکتیں کرتے تھے جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے وہ میری امی کو روز بتاتی تھی کہ میرے ابو مجھے چھیڑتے ہیں، میری امی نے کبھی اس کی باتوں پر یقین نہیں کیا، ایک دن اس نے اپنی دادی کے سامنے کہا کہ امی مجھے ابو چھیڑتے ہیں، اس پر ابو نے وضاحت کی کہ ہمارے گھر جنات وغیرہ ہیں، وہ میری شکل میں آکر اس کو چھیڑتے ہیں اس لئے یہ میرا نام لیتی ہے، اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا، دو چار سال بعد میں بھی جوان ہوگئی اور اچانک ایک رات میرے ابو میری چارپائی پر آگئے اور مجھے غلط طریقے سے ہاتھ لگانے لگے تو میری آنکھ کھل گئی اور میں امی کے پاس گئی، میں نے کہا کہ امی دیکھیں ابو کیا کر رہے ہیں، امی رونے لگ گئی اور ابو سے کہا تجھے شرم نہیں آتی، تو نے اپنی بیٹیوں کو بھی نہیں چھوڑا، میری امی نے میری آنٹی کو کراچی فون کیا، میری آنٹی اسی وقت ڈیڑھ گھنٹے میں لاہور آگئی اور ابو کو تھانے میں بند کروادیا، پھر ہمارے خاندان والوں نے میری امی پر دباؤ ڈالا کہ اس کو تھانے سے باہر نکلواؤ ہم بیٹھ کر بات کریں گے، امی نے تھانے سے تو نکلوادیا لیکن ہمارے گھر رشتہ داروں میں سے بات کرنے کوئی نہیں آیا تو امی نے محلے والوں کے ساتھ مل کر ابو کو گھر سے نکال دیا کہ آپ اس گھر میں نہیں رہ سکتے، ایک دن میری امی کے ماموں فوت ہوگئے، امی وہاں گئی تو وہاں خرچے کی بات ہوئی تو امی کے تایا زاد بھائی نے کہا کہ اس کو گھر میں رکھو اور اپنی اور اپنی بچیوں کی احتیاط کرو، یہ گھر میں رہے گا اور خرچہ بھی دے گا، کبھی ہم کھانا کھالیتے تو کبھی بھوکے ہی سو جاتے پھر بھی امی نے ابو کو گھر میں ہی رکھا، اب میری آنٹی ہمارے ساتھ رہنے لگی ہیں انہوں نے ایک کمرہ الگ سے کرائے پر لیا ہے، میرے ابو میری امی کو ایک دن بولتے ہیں کہ گھر میں دو عورتیں ہیں اور میرے ساتھ سوتی کوئی بھی نہیں ہے، یہ بات بھی امی نے برداشت کرلی، ایک دن ابو میری امی کو گالیاں دے رہے تھے تو میری آنٹی نے کہا کہ شرم کرو ہماری ماں تو اب اس دنیا میں نہیں ہے اب تو کس کو گالیاں دے رہا ہے تو وہ فوراً ہی آنٹی کو گالیاں دینے لگے، وہ گالیاں دیں جو شوہر بھی اپنی بیوی کو نہ دے، رو رو کر وہ خاموش ہو گئیں اور نیا مکان ڈھونڈنے لگ گئیں، اسی وقت جب آنٹی گھر میں آئیں تو ابو جھگڑا کر کے امی کو طلاق دے چکے تھے، میرے ابو اور امی کے درمیان جھگڑا ہوا اور ابو نے غصے میں امی کو تین مرتبہ کہا کہ”میں نے تم کو طلاق دی” اب تم میری طرف سے فارغ ہو، میں ان کی بیٹی ہوں، میری عمر 24 سال ہے، میں اس وقت ان کے پاس تھی، آنٹی نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے، چلو چلو ادھر آؤ، کچھ نہیں ہوا ہے اندر بیٹھو لیکن ان کو نہیں پتہ تھا کہ ابو نے امی کو طلاق دے دی ہے۔ کیا اس صورتحال میں طلاق ہوگئی ہے؟
شوہر سے دارالافتاء کے نمبر سے رابطہ کیا گیا تو شوہر نے مندرجہ ذیل بیان دیا ہے:
شوہر کا بیان:
میں نے غصے میں یہ الفاظ کہے تھے کہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”، غصے میں مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کیا کہہ رہا ہوں لیکن طلاق کی نیت نہیں تھی، غیر ارادی طور پر منہ سے طلاق کے الفاظ نکل گئے، غصے میں کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے، لہذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصہ کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن طلاق کے الفاظ بولتے وقت چونکہ شوہر اپنے ہوش وحواس میں تھا اور اسے علم تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے نیز اس سے کوئی خلافِ عادت قول یا فعل بھی صادر نہیں ہوا اور غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق معتبر ہوتی ہے، لہذا شوہر نے غصے میں جب اپنی بیوی کو تین مرتبہ کہا کہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تو اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔
ردالمحتار (4/439)میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادى الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه.
الثانى: أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث: من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اه…………….
(وبعد أسطر) فالذى ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته……….. فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها.
ہندیہ(1/349)میں ہے:
فروع: كرر لفظ الطلاق وقع الكل وإن نوى التأكيد دين.
وفي الشامية تحت قوله: (كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلفتك أو أنت طالق وأنت طالق.
درمختارمع ردالمحتار(4/443)میں ہے:
(صريحه مالم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية ( كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)……… ……… (ويقع بها) أى: بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح………. (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها)…….. (أو لم ينو شيئا)
وفي الشامية تحت قوله: (أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية.
بدائع الصنائع(3/295)میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلى هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضاً حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عزوجل ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾ سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة……………. الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved