• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کا بیوی کو کاغذ پر طلاق لکھ کر دینے سے طلاق کا حکم

استفتاء

12 اگست 2026  کو اپنے شوہر کے ساتھ مدرسے گئی تھی جاب کے لیے ایک مدرسے جانے کے بعد دوسرے مدرسے جا رہے تھے راستے میں بائیک  پنکچر ہو گئی،  میں اکیلی سٹاپ پر کھڑی تھی شوہر اندر جا کر بیٹھ گئے ، آتے جاتے سب لوگ مجھے ہی دیکھتے رہے میں اپنا پرس  لے جانا بھول گئی میرے پاس پیسے نہیں تھے سوچا خود ہی گھر چلی جاؤں،  پھر میں پیدل ہی گھر کے لیے نکل گئی کافی دور جانے کے بعد شوہر بائیک پر آئے لیکن میں بھی بہت غصے میں تھی اور میں بائیک پر  نہیں   بیٹھی ، پھر میں دور جا کر ایک  رکشہ  کر کے گھر آگئی اور  شوہر بھی گھر آگئے ، میں نے شوہر کو کہا  کہ میں کس طرح سڑک  پر کھڑی تھی ، مجھے لوگ غلط عورت سمجھ رہے تھے بس  اب مجھے نہیں رہنا مجھے چھوڑ دو ، شوہر نے کہا  کہ “میں نہیں آؤں گا اب تم  گھر بیٹھ جاؤ ” لیکن مجھے نہیں پتہ کیا ہو گیا تھا اتنا غصہ میرا لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، میرے شوہر نے مجھے لکھ کر طلاق دی  جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ” میں طلاق دیتا ہوں۔محمد زید  فاطمہ کو  طلاق دیتا وں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، میں  طلاق دیتا  ہوں، میں محمد زید  فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں ، میں طلاق دیتا  ہوں  فاطمہ  کو”

ویسے اکثر ہماری لڑائی ہوتی رہتی تھی تقریبا ڈیڑھ سال سے بہت زیادہ لڑائی ہو رہی تھی، ساری وجہ پیسے کی تھی 21 سال ہو گئے تھے شادی کو ایک دوسرے کا  ہم  نے بہت ساتھ دیا بس پتہ نہیں اچانک اتنا سب کیسے  ہو گیا ؟ اب ہم دونوں ہی ڈسٹرب  ہیں  دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں سب سے چھوٹا بیٹا 13/14 سال کا ہے اور  بڑا بیٹا 21 سال کا ہے۔

شوہر کا بیان:

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ یہ الفاظ میں نے  ہی غصے  میں  لکھے ہیں لیکن میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا۔

نوٹ: طلاق کی  تحریر کی عبارت  درج ذیل ہے:

میں طلاق دیتا ہوں۔محمد زید  فاطمہ کو  طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، میں  طلاق دیتا  ہوں، میں زید  فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں ، میں طلاق دیتا  ہوں  فاطمہ کو۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے  حق میں تینوں  طلاقیں واقع  ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی  شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ  رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح  کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں طلاق کی تحریر  کتابت  مستبینہ غیر مرسومہ ہے اور کتاب مستبینہ غیر مرسومہ  سے شوہر کی طلاق کی نیت ہو  یا شوہر نے غصے یا مذاکرہ میں طلاق لکھی ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے مذکورہ صورت میں طلاق کی تحریر لکھتے  وقت اگرچہ شوہر کی طلاق  کی نیت نہیں تھی لیکن چونکہ بیوی کے مطالبے پر اور غصے میں  شوہر نے  تین سے زیادہ طلاقیں  لکھی  ہیں لہٰذا بیوی کے حق میں تین طلاقیں  واقع ہوگئی ہیں۔

درمختار (4/509) میں ہے:

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .

فتاوی شامی (4/442) میں ہے:

قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا.

نوٹ:واضح رہے کہ مستبینہ غیر مرسومہ طلاق اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے صریح ہے مگر کتابت اور پھر غیر مرسومہ ہونے کی وجہ سے نیت کے حق میں ملحق بالکنایہ ہے  جس سے نیت کے ساتھ تو طلاق  ہو ہی جاتی ہے لیکن دلالت حال معتبر ہوگی یا نہ ہو گی؟  اس بارے میں کوئی صریح جزئیہ نہیں ملا مگر  درج ذیل جزئیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دلالت حال بھی معتبر ہوگی۔ کیونکہ ان جزئیات میں موجود الفاظ بھی نہ تو صریح ہیں اور نہ کنایہ ہیں۔ اپنے مادے کے لحاظ سے صریح ہیں اور صورت کے لحاظ سے صریح نہیں ہیں۔ اسی طرح ہمارے زیر نظر طلاق مستبین غیر مرسوم میں الفاظ صریح ہیں مگر طریقہ غیر مرسوم ہے اس لیے یہ بھی اسی فہرست میں شامل ہونا چاہیے اور یہاں بھی دلالت حال معتبر ہونی چاہیے۔

فتح القدیر(4/60)میں ہے:

وأما طال بلا قاف فأطلق بعضهم الوقوع به وفصل بعضهم فقال مع إسكان اللام: يحتاج الى النية ومع كسرها يقع بلا نية والوجه إطلاق التوقف علي النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين، هذا في حالة الرضا وعدم مذاكرة الطلاق، أما في أحدهما فيقع قضاء أسكنها أو لا۔

درمختار مع ردالمحتار (4/455) میں ہے:

وكذا يا طال بكسر اللام وضمها لأنه ترخيم أو أنت طال بالكسر وإلا توقف على النية،

(قوله وإلا توقف على النية) أي وإن لم يكسر اللام في غير المنادى توقف الوقوع على نية الطلاق: أي أو ما في حكمها كالمذاكرة والغضب كما في الخانية. وفي كنايات الفتح أن الوجه إطلاق التوقف على النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا بالاتفاق لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء، فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين إلا عند الغضب أو مذاكرة الطلاق فيقع قضاء أسكنها أو لا، وتمامه فيه.

درمختار مع ردالمحتار (4/455) میں ہے:

(و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة، فلا يرد وقوع الرجعي ببعض الكنايات أيضا نحو: أنا بريء من طلاقك وخليت سبيل طلاقك وأنت مطلقة بالتخفيف، وأنت أطلق من امرأة فلان، وهي مطلقة، وأنت طالق وغير ذلك مما صرحوا به (خلا اختاري) فإن نية الثلاث لا تصح فيه أيضاولا تقع به ولا بأمرك بيدك ما لم تطلق المرأة نفسها كما يأتي (البائن إن نواها أو الثنتين)

(قوله بالتخفيف) أي تخفيف اللام، أما بالتشديد فهو صريح يقع به بلا نية كما مرفي بابه (قوله وأنت أطلق من امرأة فلان) فإن كان جوابا لقولها إن فلانا طلق امرأته وقع ولا يدين لأن دلالة الحال قائمة مقام النية؛ حتى لو لم تكن قائمة لم يقع إلا بالنية نهر في باب الصريح عن الخلاصة فليس من الصريح وإلا لم يتوقف على النية، وعلله في الفتح بأن أفعل التفضيل ليس صريحا فافهم (قوله وهي مطلقة) أي والحال أن امرأة فلان مطلقة وإلا فلا يقع، وهذا القيد ذكره في البحر، لكن في الفتح في أول باب الصريح أنه لا فرق بين كونها مطلقة أو لا. قال: والمعنى عند عدم كونها مطلقة لأجل فلانة، يعني أن (من) في قوله من امرأة فلان للتعليل (قوله وأنت ط ل ق) قدمنا في باب الصريح عن الذخيرة تعليله بأن هذه الحروف يفهم منها ما هو المفهوم من صريح الكلام إلا أنها لا تستعمل كذلك، فصارت كالكناية في الافتقار إلى النية.

فتاویٰ النوازل لابی اللیث السمرقندی(ص215) میں ہے:

ثم الكتاب إذا كان مستبيناً غير مرسوم كالكتابة على الجدار وأوراق الأشجار وهو ليس بحجة من قدر على التكلم فلا يقع إلا بالنية والدلالة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved