- فتوی نمبر: 35-21
- تاریخ: 12 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
میری شادی 2005-12-22 کو ہوئی۔ میرے بڑے بھائی کی شادی مجھ سے چار سال بعد میرے خاوند کی بھانجی سے سب کی رضامندی سے ہوئی۔12 سال میں سعودیہ اپنے شوہر کے ساتھ رہی۔پھر میں بچوں کی پڑھائی کی وجہ سے پاکستان آگئی۔میرا پانچواں بچہ یہاں(پاکستان)آ کر پیدا ہوا۔میں والدین اور خاوند کے مشورے سے لاہور شفٹ ہوئی۔بچوں کو حفظ کروانے کے لیے میرا چھوٹا بھائی،امی،بھابھی وقتاً فوقتاً ہمارے ساتھ رہتے تھے۔میرے خاوند نے نازیبا الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیے کہ تمہارا انٹرنیٹ رات دیر تک آن(کھلا)کیوں رہتا ہے، تم بازار سے آ کر نہائی کیوں،تمہارے جیسی عورت کو کاٹ کر پھینک دینا چاہیے۔چار یا پانچ سال کے بعد میرا شوہر پاکستان آیا(اس دوران گھریلو مسائل کی وجہ سے میرا بھائی اس کی بھانجی کو طلاق دے چکا تھا)آتے ہی وہ مجھ پر الزامات لگانے لگا اور شک کرنا شروع ہو گیا۔میرے والدین نے مجھے صبر کرنے کا ہی بولا۔پھر ایک دن اس نے مجھے،میری امی اور بھابھی کو گھر سے رات کے وقت نکال دیا۔میں بچوں کو چھوڑ کر امی کے گھر چلی گئی وہاں سے تیسرے روز مجھے سمجھا کر والدین نے واپس بھیج دیا کیونکہ اس کے دوست نے کال کر کے ابو کو بتایا کہ وہ بیمار ہے،اسے دورے پڑتے ہیں،میں نے دوائی لے کر دی ہے۔بیوی کا پاس ہونا ضروری ہے۔میں واپس آگئی۔میرے شوہر کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔البتہ پیسے تھے جن سے ایک دکان بنائی۔میں نے چھ ماہ تک گھر کے ساتھ دکان بھی سنبھالی۔ پھر جب چھٹا بچہ ہونے والا ہوا تو میں بیمار ہو گئی۔اس انسان نے لڑائیاں شروع کر دیں اور میرا سامان جیسا کہ میک اپ، پرفیوم،جیولری،کچھ کپڑے نکال کر لے گیا اور پتہ نہیں کیا کیا۔بیچا یا کسی کو دے دیا۔سچ تو کبھی بولا نہیں۔میں بیٹی کی پیدائش کے بعد زیادہ بیمار ہو گئی اور پورا سال چارپائی پر رہی۔اس نے الزامات لگانے نہیں چھوڑے دروازہ رات کو دو بجے بجا کر بولنا کہ اچھا یہاں ہو میں سمجھا کسی کے ساتھ بھاگ گئی یا یہ کہ مجھے پتہ ہے کہ کمرے میں کیا کرتی ہو ایسا بہت کچھ۔پھر جب یہ دیکھا کہ میں غصہ نہیں کر رہی تو ایک دن خود ہی گھر چھوڑ کر چلا گیا۔فون کرنے پر بولا کہ میں خرچہ برداشت نہیں کر سکتا خود اپنے بچوں کو سنبھالو۔والدین نے تیسرے روز بلایا اور بٹھا کر بات کی لیکن وہ اپنی بات پر اٹل رہا۔والد صاحب نے کہا کہ پھر فیصلہ دے دو۔وہ بولا کہ عدالت سے لے لو۔پھر ایک ہفتے کے بعد لوگوں سے پتہ چلا کہ اس نے دکان بیچ دی۔تقریبا ڈیڑھ سال تک کوئی خبر نہیں پھر بچوں کو چوری ملنے کی کوشش کی جس پر تنسیخ نکاح کا مقدمہ کیا،اور یہ کسی پیشی پر نہیں آیا۔جب سے تنسیخ نکاح کا فیصلہ آیا ہے اور اس نے زمانے بھر سے جوتیاں کھا لی ہیں اب لوگوں کے پاس خاص کر مفتیان کرام اور دین دار لوگوں کے پاس جا کر کہتا ہے کہ صلح کروا دیں یہ ابھی بھی میرے نکاح میں ہے۔خرچہ کے نام پر اتنے عرصے میں ایک روپیہ نہیں دیا۔برائے مہربانی تحریری فیصلہ بتا دیں تاکہ مجھے تسلی ہو جائے کہ رجوع کی کوئی صورت ہے یا نہیں تاکہ اس کی تسلی بھی کروا دیں۔
وضاحت مطلوب ہے:شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت:وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ پچھلے 4،3 سال سے ہمیں کوئی علم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔رابطہ نمبر کا بھی علم نہیں۔اس نے اپنے والدین سے بھی رابطہ نہیں کیا،نہ کبھی گھر چکر لگایا،نہ ہم میں سے کسی سے ملا۔صرف تنگ کرنے کے لیے بہن کو مختلف نمبروں سے فون کرتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر نان نفقہ نہیں دیتا تھا اور بیوی نے اپنا نان نفقہ معاف بھی نہیں کیا تھا اور تنسیخ نکاح کی درخواست بھی اس وجہ سے دی تھی کہ اس کا شوہر اسے نان نفقہ نہیں دیتا تھا اور عدالت کے نوٹس بھیجنے کے باوجود بھی شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور عدالت نے تنسیخ نکاح کا فیصلہ کردیا اور شوہر بیوی کی عدت گزرنے تک نان نفقہ دینے پر آمادہ نہیں ہوا تو ایسی صورت میں عدالت کا فیصلہ بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار ہو گا جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو جائے گا اور بیوی کو آگے نکاح کرنے کی اجازت ہوگی کیونکہ مذکورہ صورت میں اگرچہ عدالت نے خلع کا طریقہ اختیار کیا ہے اور یک طرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوتا مگر چونکہ مذکورہ صورت میں فسخ نکاح کی معتبر بنیاد موجود ہے یعنی شوہر کا تعنت (استطاعت کے باوجود نان نفقہ ادا نہ کرنا)پایا جا رہا ہے لہذا عدالتی خلع شرعاً بھی مؤثر ہے۔
نوٹ:مذکورہ جواب شوہر سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے صرف بیوی کے بیان کے مطابق دیا گیا ہے لہذا اگر شوہر کا بیان مختلف ہوا تو مذکورہ جواب کالعدم شمار ہوگا۔
ضوء الشموع شرح المجموع(2/ 540)میں ہے:
(إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق،أو طلق وإلا طلق عليه)
(قوله: وإلا طلق)أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم.
فتاوی عثمانی (2/462) میں ہے:
بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ درخواست برائے فسخ نکاح نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دے اور جج اپنے فیصلے میں بھی اسی کو بنیاد بنائے،خلع کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کرے اس لئے کہ یک طرفہ خلع شرعاٰ کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں۔تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیادِ فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو یعنی شوہر کا تعنت ثابت ہو رہا ہو البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یکطرفہ فیصلہ درست نہ ہوگا،تاہم فسخ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہو گیا ہے اور عورت عدتِ طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔
حیلہ ناجزہ(ص:72)میں ہے:
زوجہ متعنت(جو باوجود قدرت کے حقوق نان نفقہ وغیرہ ادا نہ کرے)کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔۔۔۔۔اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو۔
تنبیہ:خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو یا اس کے عزیز و اقارب اس کا نفقہ برداشت کرنے پر تیار ہوں مالکیہ کے نزدیک یہ شرط نہیں، “حیلہ ناجزہ” میں اس شرط کے لگانے اور مذہب مالکیہ کو علی الاطلاق نہ لینے کی وجہ عدم ضرورت بیان کی گئی ہے۔
چنانچہ حیلہ ناجزہ کے حاشیہ(ص:72)میں ہے:
و هذا الحكم عندنا لا يختص بخشية الزنا و إفلاس الزوجة لكن لم نأخذ مذهبهم على الإطلاق بل أخذناه حيث وجدت الضرورة المسوغة للخروج عن المذهب.
ہم نے اپنے فتوے میں مذہب مالکیہ کو علی الاطلاق لیا ہے کہ اب عدالتیں اپنے فیصلوں میں اس شرط کو(یعنی عورت کے حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش کی قدرت یا عورت کے عزیز و اقارب کے نفقہ برداشت کرنے کو)ملحوظ نہیں رکھتیں اور قضائے قاضی رافع للخلاف ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved