- فتوی نمبر: 34-317
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
میری کچھ عرصہ میں ایک لڑکی( جو کہ ہماری رشتہ دار ہے) سے شادی ہونے والی ہے۔اس لڑکی کا نکاح پہلے کسی اور سے ہوا تھا، مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی۔اس لڑکی اور لڑکے کے والدین بھائی بہن ہیں، انہوں نے آپس میں اپنے بیٹی اور بیٹوں کے نکاح، وٹہ سٹہ کر رکھے تھے۔ یعنی ایک کے بیٹی اور بیٹا کا دوسرے کے بیٹی اور بیٹے سے نکاح ہوا۔ مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ دونوں لڑکیاں اپنے والدین کے زیر کفالت تھیں۔پھر دونوں گھروں کے معاملات اچھے خاصے بگڑے، اور کچھ تنازعات چلتے رہے، صلح وغیرہ کی کوشش کے ساتھ، اور برادری کو بھی کچھ حد تک مخل کیا گیا۔ مگر اس لڑکی کا سسر جو کہ ماموں بھی ہے، انہوں نے اپنی نکاح ہوئی بیٹی کی عدالت سے خلع کروالی( اس لڑکی کے بھائی سے)اور اس کا رشتہ کہیں اور کر کے شادی کر دی۔ مگر ان لوگوں کو بلا وجہ تنگ کرتے رہے۔ یہ لوگ اس سے متعلق کافی حد تک پریشان ہوے، گھر والے بھی اور لڑکی بھی۔ اس پریشانی میں انہوں نے میرے والد صاحب سے بات کی، اور رضا مندی سے رشتہ کے لیے ہاں ہوئی تو ان لوگوں نے عدالت سے خلع کروائی۔ جہاں تک میرے علم میں بات ہے، اس لڑکے نے طلاق نہیں دی۔ یہ خلع عدالت کے ذریعے سے لی گئی، تو کیا شریعت کی نظر میں یہ خلع معتبر ہے؟ اور کیا میرا نکاح اس حال میں درست ہوگا یا اس لڑکے کو طلاق کے الفاظ بولنا ضروری ہیں؟ اس لڑکی کا پہلا سسر، جو کہ ہماری ساری برادری جانتی ہے کہ اس کے معاملات ٹھیک نہیں ہوتے۔اس لڑکی کے گھر والوں کے بقول اس نے انکو بولا تھا کہ میں ایسے ہی تنگ کروں گا۔
کچھ وضاحت میں کرنا چاہوں گا، جیسے اوپر کچھ تفصیل میں عرض کیا ہے کہ، انکے خاندانی معاملات آپس میں بہتر نہیں ہو سکے، جب انکے ماموں نے اپنی بیٹی کی شادی آگے کر دی تو ان لوگوں نے بھی اسکے اس رویہ کو دیکھتے ہوے انکار کر دیا، چونکہ وٹہ سٹہ تھا۔ اور انکے ایسے رویوں کی وجہ سے لڑکی بھی اس گھر میں جانے کے لیے راضی نہیں تھی ۔اسکی بڑی وجہ یہی سامنے آئی کہ دونوں خاندانوں کے معاملات آپس میں بہتر نہیں ہو سکے، اور کچھ خاطر خواہ وجہ نہیں مل سکی سواۓ اسکے کہ یہ لڑکی بھی اس گھر جانے کو راضی نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شرعاً آپ کا اس لڑکی سے نکاح درست نہیں۔
توجیہ:شرعاً خلع کے درست ہونے کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر کی رضامندی نہیں پائی گئی اس لیے شرعاً یہ خلع معتبر نہیں نیز اگرچہ بعض صورتوں میں شوہر کی رضامندی کے بغیر لیا گیا خلع بھی شرعاً معتبر ہوتا ہے مثلاً شوہر کے ظلم کرنے، مارنے اور نفقہ نہ دینے وغیرہ کی صورتوں میں۔ لیکن مذکورہ صورت میں ایسی کوئی وجہ نہیں پائی گئی بلکہ ابھی رخصتی ہی نہیں ہوئی لہذا عدالت سے خلع لینے سے شرعاً یہ نکاح ختم نہیں ہوا۔
لہٰذا آپ اگر اسی لڑکی سے شادی کرنا چاہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے جس لڑکے سے نکاح ہوا تھا وہ اس لڑکی کو طلاق دے دے یا باہمی رضامندی سے خلع کر لے اس کے بعد آپ نکاح کر سکتے ہیں۔
بدائع الصنائع (3/145) میں ہے:
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول
ہندیہ (1/280) میں ہے:
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره
المبسوط للسرخسی (10/96) میں ہے:
ونكاح المنكوحة لا يحله أحد من أهل الأديان
فتاویٰ عثمانی(2/463)میں ہے:
یک طرفہ خلع شرعاً کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں۔تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیادِ فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو،یعنی شوہر کا “تعنت”ثابت ہورہا ہو،البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو،اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یک طرفہ فیصلہ درست نہ ہوگا،تاہم فسخِ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہوگیا ہے،اور عورت عدّتِ طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved