- فتوی نمبر: 35-24
- تاریخ: 12 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
مفتی صاحب شوہر نے اپنی بیوی کو کہا کہ” اگر تو نے میرے باپ کی خدمت کی تو تجھے تین طلاق ” پھر بیوی نے سسر کے گندے کپڑے واش روم سے نکال کر بالٹی میں دھونے کی غرض سے ڈالے، اس وقت ساس نے آکر اس سے کپڑے ليے اور بہو نے كپڑے نہیں دھوئے تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی يا نہیں ؟
تنقیح: میری گھر والی میرے والد کی خدمت کرتی تھی اور میری بھابھی خدمت نہیں کرتی تھی لیکن اس کے باوجود بھی میرے والد میری بھابی کی طرف داری کرتے تھے تو میں نے جھگڑا کے وقت اپنی بیوی کو کہا کہ” اگر تو نے میرے والد کی خدمت کی تو تجھے تین طلاقیں “خدمت سے مراد عام ہے کہ کوئی بھی خدمت کرے۔گھر کا سارا کام مشترکہ تھا عورتوں میں کوئی کھانا پکاتی کوئی جگہ صاف کرتی کوئی کپڑے دھوتی ہے تو سارا کام مشترکہ تھا کبھی کپڑے بھی سب اکٹھے دھوتے کام متعین نہیں تھے۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔شوہر نے کتنا عرصہ پہلے یہ الفاظ بولے تھے؟2۔ یہ الفاظ بولنے کے بعد کیا بیوی نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا کہ جس میں سسر کو بھی فائدہ ہوا ہو مثلا کھانا، چائے وغیرہ بنانا؟
جواب وضاحت:1۔ ایک مہینہ پہلے کہے تھے 2۔ ابھی تک فائدہ والا کام نہیں کیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے طلاق کو باپ کی خدمت کرنے کی شرط پر معلق کیا تھا اور وہ شرط پائی گئی کہ بیوی نے شوہر کے باپ کے کپڑے واش روم سے نکال کر بالٹی میں ڈالے کیونکہ یہ بھی خدمت کے زمرے میں آتا ہے اسی وجہ سے ساس نے فوراً اس سے کپڑے لے لیے گوکہ ساس کا سمجھنا حجت نہیں ہے مگر عرف کے تعین میں معاون ہے لہذا شرط کے پائے جانے کی وجہ سے عورت پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور عورت شوہر پر حرام ہو چکی ہے۔
ہندیہ (1/420) میں ہے:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
ہندیہ (1/473) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved