• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سوسائٹی کا اجتماعی قربانی کا انتظام کرنا

استفتاء

سال 2023 میں ہماری سوسائٹی کے رہائشی اپنی قربانیاں اپنے گھروں میں کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے مطابق اگر وہ اپنے گھروں میں اپنی قربانی کے جانور لا کر رکھیں گے تو ان کے جانوروں کی سکیورٹی، پانی پلانا، پنکھا لگانا، بچوں اور فیملی کو جانوروں کی خدمت کرنے کا موقع دینا اور دیگر سہولیات پہنچانا آسان ہوگا۔ مگر سوسائٹی اس بات پر اصرار کررہی تھی کہ اگر گھروں میں قربانی کے جانور رکھے جائیں گے تو اس پر سوسائٹی کے سیوریج میں کچرہ وغیرہ جائے گا اور روزانہ ہر گھر سے جانوروں کا فضلہ وغیرہ اُٹھانا مشکل ہوگا جس پر سوسائٹی کے اخراجات بڑھیں گے مزید برآں جانور سوسائٹی کی ہارٹیکلچر (پودوں) وغیرہ کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لئے سوسائٹی کا موقف تھا کہ وہ اجتماعی قربان گاہ کا انتظام کریں گے اور اس کا خرچ سوسائٹی ممبران سے وصول کریں گے۔ دونوں فریقین اپنے موقف پر بضد تھے جس پر سوسائٹی کے رہائشیوں نے حصول انصاف کیلئے عدالت جانے کا عندیہ دیا تا کہ جو فیصلہ بمطابق قانون عدالت کرے اس پر عمل کیا جا سکے۔

اسی دوران چند ممبران نے تجویز پیش کی کہ جو سہولیات ہمیں گھر جانور رکھ کر قربانی کرنے میں میسر ہیں اگر وہ سہولیات سوسائٹی اجتماعی قربان گاہ میں میسر کر دے، مثلاً فیملیز کے بیٹھنے کا بندوبست، پنکھوں کا انتظام ، قربانی کیلئے جانور کا گوشت بنانے کیلئے چٹائیاں اور جانوروں کی کھر لیاں وغیرہ مزید یہ کہ اس طرح اپنے سیوریج سسٹم اور صفائی کے دیگر اخراجات گھروں میں قربانی نہ کرنے کی صورت میں سوسائٹی بچا کر ان انتظامات پر لگا دے اور کسی قسم کے چار جز ممبران سے وصول نہ کرے تا ہم چارہ رہائشی اپنی گرہ سے اپنے جانوروں کو ڈالیں گے  تو ہم سوسائٹی کے رہائشی اجتماعی قربان گاہ میں قربانی کے لیے رضا مند ہیں وگرنہ ہمیں سوسائٹی اپنے گھروں میں قربانی کا فریضہ ادا کرنے دے اور اجتماعی قربان گاہ میں جانور رکھنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے ۔ جبکہ ووٹنگ میں بھی اکثریتی لوگوں نے گھروں میں قربانی کیلئے ووٹ دیئے۔ سوسائٹی انتظامیہ نے ان تمام امور اور اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ تمام قربانیاں اجتماعی قربان گاہ میں ہوں گی اور سوسائٹی اس سلسلے میں کسی قسم کے چار جز رہائشیوں سے وصول نہ کرے گی تا کہ ہارٹیکلچر ( پودوں ) اور صفائی ستھرائی، سیوریج سٹم وغیرہ کے مسائل نہ پیش آئیں۔

البتہ سوسائٹی اس ضمن میں جو SOPS جاری کرے گی اس پر تمام رہائشیوں کو عمل درآمد کرنا ہو گا۔ اس فیصلہ کے بعد کچھ ممبر ان جانور گھروں میں لے کر گئے جو کہ سوسائٹی انتظامیہ اور رہائشیوں کے باہمی فیصلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے سوسائٹی انتظامیہ نے گھروں سے کھلوا کر اجتماعی قربان گاہ میں لے گئی اور اپنے SOPS پر عمل درآمد کروایا ۔ اور حسب معاہدہ زبانی مابین سوسائٹی انتظامیہ و رہائشی کسی قسم کے چار جز وصول نہ کئے اور سال 2024 کی قربانی کے بڑے جانوروں کا بندوبست بھی سال 2023 کی طرح اجتماعی قربان گاہ کی صورت میں کیا اور کسی قسم کے واجبات نہ وصول کئے اور نہ ہی آج تک مطالبہ کیا۔ بلکہ چند رہائشیوں کے پوچھنے پر اس ضمن میں کسی قسم کا خرچ لینے سے انکار کیا۔لیکن اب چند دوست یہ مسئلہ اُٹھا رہے ہیں کہ بے شک سوسائٹی اجتماعی قربان گاہ کےواجبات کا مطالبہ نہیں کر رہی یا لے رہی ہے البتہ چونکہ قربانی کا فریضہ واجب فریضہ ہے اسلئے اس مد میں آنے والا خرچ آپ ذاتی طور پر سوسائٹی کو ادا کریں یہ آپ پر شرعی طور پر قرض کی صورت ہے جس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے آپ لوگوں کی تقریباً 200 قربانیاں سال 2023 اور 2024 کی مشکوک ہو چکی ہیں۔

درج بالا حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزارش ہے کہ اجتماعی قربان گاہ کا بندو بست باہمی رضامندی سے انتظامی امور کے تحت سوسائٹی نے اپنے مفاد اور آسانی کو مد نظر رکھ کر کیا جبکہ ہم رہائشی اپنے گھروں میں جانوروں کو رکھنا اور قربان کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے سوسائٹی کے اصرار پر جانوروں کو اجتماعی قربان گاہ میں رکھا اور قربان کیا لہذا یہ سوسائٹی کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہمیں تمام تر سہولیات اجتماعی قربان گاہ میں فراہم کرتی۔ بہر حال آج تک ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود سوسائٹی نے ہم سے کسی قسم کےواجبات کا مطالبہ نہ کیا ہے تاہم کیا ہمیں اُن چند دوستوں کے کہنے کے مطابق اجتماعی قربان گاہ کے اخراجات از خود جمع کروانے ہوں گے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں برائے کرم بمطابق شریعت راہنمائی فرمائی جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں جب سوسائٹی کی انتظامیہ اور سوسائٹی کے رہائشیوں کے درمیان باہمی اتفاق سے یہ طے پاگیا کہ سوسائٹی انتظامیہ اجتماعی قربان گاہ کے واجبات کا مطالبہ سوسائٹی کے رہائشیوں سے نہیں کرے گی تو قربانیوں کے مشکوک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ نیز اگر یہ مان بھی  لیں کہ یہ واجبات رہائشیوں پر قرض ہیں جوکہ رہائشی ادا نہیں کررہے تو پھر  بھی قرض ادا نہ کرنے سے قربانی مشکوک نہیں ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved